اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 110 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 110

11+ - 1 • اصل مسودہ مضمون ”اسلامی اصول کی فلاسفی، جس پر سے پڑھ کر جلسہ اعظم مذاہب میں مضمون سنایا گیا تھا۔یہ مسودہ تقسیم ملک سے پہلے بھائی جی نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے سپر د کر دیا تھا۔ایک پوتین حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جو بھائی جی نے اپنی بیٹی کو دی ہوئی ہے۔اور ان کے پاس -11 محفوظ ہے۔-۱۲ بھائی جی تحریر فرماتے ہیں : سید نا حضرت امصلح الموعود کے سفرلندن کے آخری چند ایام میں ولیم دی کانکرڑ“ کی رؤیا کے پورا ہونے کے دن کی حضور کی دعا کے وقت کی وہ ریت سمندری بھی (جو سنگریزے ملی ہوئی تھی ) میرے پاس محفوظ ہے۔جس میں حضرت اقدس نے دعا کرتے کرتے دونوں ہاتھ مارے تھے۔اور جو حضرت مولانا در دصاحب نے پہلے اور میں نے پیچھے اُٹھالی تھی۔اور یہ واقعہ جو خدائے علام الغیوب کے علم اور قدرت کا جہاں ایک بے نظیر اور فقید المثال کرشمہ ہے وہاں سید نا حضرت اولوالعزم فخر رسل کی صداقت ، قرب اور مقام محمود کی بھی ایک نا قابل تردید دلیل ہے۔“ ( تحریر مورخہ ۳ / نومبر ۱۹۴۶ء جو مؤ لف ہذا کے پاس موجود ہے۔) خطوط واحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف کی طرف سے ہیں۔حضرت بھائی جی نے فرمایا تھا کہ تقسیم ملک کے بعد مجھے علم نہیں کہ یہ تبرک آیا بچوں کے پاس پاکستان میں محفوظ ہے یا نہیں۔بقیہ حاشیہ: - " اس پر حضرت بھائی جی کے قلم کا ۲۴ را پریل ۱۹۰۸ء کا ذیل کا نوٹ درج ہے۔حضرت اقدس کا پی دیکھ رہے تھے ہاتھ میں پنسل ہی تھی۔حضرت اقدس کے الفاظ پنسل سے تھے۔میں نے سیاہی سے اوپر فلم پھیر دی۔لیکن الحکم میں تاریخ ۲۱ / اپریل ۱۹۰۸ء درج ہے۔مکتوبات میں (بلاک میں) تاریخ درج نہیں۔البتہ بھائی جی کے عریضہ میں ۲۴ / اپریل ۱۹۰۸ء تاریخ درج ہے۔(صفحہ ۶) - الحکم میں حضرت قاضی سید امیر حسین صاحب کے عریضہ میں تحریر ہے کہ ” میرالڑ کا سخت بیمار ہے“۔لیکن الحکم میں حضرت اقدس کی تحریر یہ پڑھی گئی اور درج کی گئی ہے: ” خدا تعالیٰ آپ کی لڑکی کو شفا بخشے۔گویا سہو ہوا ہے۔یہ مکتوب ” مکتوبات“ کی جلد میں درج نہیں ہوا۔دراصل اس زمانہ کی منشیانہ طرز تحریر ایسی تھی مثلاً اس مکتوب میں حضور تحریر فرماتے ہیں: کل مجھی اضطراری‘جو مجھے“ ہے۔