اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 96 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 96

۹۶ باعث سارا خاندان ۷-۱۹۰۶ء میں ہجرت کر کے قادیان چلا آیا۔وقف و ہجرت آپ جو ۱۸۹۵ء میں قادیان آئے تو آپ یہیں کے ہور ہے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفائے کرام کے ارشادات پر ہی کہیں جانا ہوا۔آپ نے مہاجرانہ زندگی بسر کی اور کسی تنگی کی پرواہ نہ کی۔آپ کے وجوہ معاش کبھی بھی مستقل نہیں ہوئے۔تفصیل دوسری جگہ درج کی گئی ہے۔بقیہ حاشیہ:- جس سے ظاہر ہے کہ وقت شادی ۱۹۰۲ء کی سہ ماہی اوّل سے آگے نہیں جاتا۔آپ کی اہلیہ محترمہ نے آپ کی موجودگی میں ذیل کا بیان لکھوایا کہ : میرے دادا میاں شاہ نواز صاحب نے جن کی سکونت قصبہ ڈنگہ میں تھی میرے والدین سمیت بذریعہ خط بیعت کی تھی۔میری شادی سے ایک دو سال قبل والدہ صاحبہ نے خواب میں ایک بزرگ دیکھا جس نے ان کو انگلی سے پکڑ کے اٹھاتے ہوئے کہا کہ لنگر میں آٹا ڈالو اور نماز پڑھو۔چنانچہ یہ خواب سُن کر دادا جی نے والد صاحب کو اجازت دی کہ قادیان آئیں اور آٹا پہنچائیں اور کہا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت سارے کام جو رضائے الہی کا موجب ہیں جاری کئے ہوئے ہیں اور ان میں مدد دینا موجب ثواب ہے۔یہ بھی کہا کہ حضرت اقدس کی خدمت میں میرا سلام پہنچا کر عرض کرنا کہ میں بیمار ہوں۔صحت ہونے پر حاضر خدمت ہوں گا لیکن دادا جی چونکہ جلد بعد وفات پاگئے اس لئے حضور کی زیارت کا موقع نہ پاسکے۔دادا جی نے یہ بھی بتایا تھا کہ قادیان جانے کے لئے نارووال کی طرف سے جانا پڑے گا اور یہ کہ قادیان بوڑھاں والی یعنی بڑ کے درختوں والی کے نام سے مشہور ہے۔والد صاحب آٹا لے کر روانہ ہوئے۔مجھے روانگی کا نظارہ اس وقت تک یاد ہے۔ہم سب فکر مند تھے کہ والد صاحب ایک لمبے سفر پر روانہ ہو رہے ہیں۔آپ نارووال کے راستہ پیدل، بلکہ ننگے پاؤں قادیان پہنچے۔پیر کی زیارت کے لئے پیدل بلکہ ننگے پاؤن سفر کرنا ان دنوں بہت کار ثواب سمجھا جاتا تھا۔جب آپ قادیان پہنچے تو حضرت اقدس کسی مقدمہ کے لئے گورداسپور گئے ہوئے تھے۔والد صاحب نے بھی خواب میں حضرت اقدس کی زیارت کی تھی۔حضور کو قادیان میں نہ پا کر افسردہ ہوئے۔چند دن بعد حضور گورداسپور سے تشریف لے آئے اور رتھ سے اترے تو حضور کی شکل بعینہ خواب والی پا کر والد صاحب کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے ” میں نے پالیا۔میں نے پالیا۔لوگ حیران تھے کہ نہ معلوم اس شخص کے دماغ کو کیا ہو گیا ہے۔بعد نماز ظہر حضور کے