اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 81 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 81

ΔΙ اور کس کس کی در پردہ ناصیہ فرسائی کرتے پھرے۔جس کے نتیجہ میں ایک روز اچانک ایک چپڑاسی میرے نام کا ایک سمن لئے میری تلاش میں پھرا کیا۔اور آخر میرے تک پہنچا۔اس نے مجھے سمن دکھا کر دستخط کرنے کا تقاضا کیا۔میرے لئے عمر بھر میں یہ پہلا موقعہ تھا کہ سرکاری کا غذ میرے نام آیا۔کچھ گھبراہٹ تھی۔کچھ عیار مذکورئیے کا تقاضا۔آؤ دیکھا نہ تاؤ قلم دوات چپڑاسی ساتھ رکھا کرتے تھے نکال سامنے کی۔اور میں نے اطلاع پائی لکھ دیا۔بلکہ الفاظ بھی وہی لکھے جو چپڑاسی نے لکھائے۔مجھے یہ بھی تو علم نہ تھا کہ سمن کا منی مجھے لینا چاہئے۔جو کچھ ہوا اس میں پہلی بعض افواہوں اور اخبار کا بھی اثر و دخل تھا۔سو جبھی تو صرف یہ کہ سیدھا اپنے آقائے نامدار سید نا حضرت اقدس مسیح موعود مهدی معہود کے در پر جا دستک دی۔دریافت پر اپنا نام عرض کیا۔اور حضور پر نور بہ نفس نفیس دروازہ پر تشریف لے آئے۔نہایت ہی لطف و کرم سے بات پوچھی جو میں نے لرزتے کا نپتے عالم پریشانی میں ہی عرض کر دی۔حضور نے توجہ سے سن کر نہایت ہی محبت آمیز لہجہ میں فرمایا۔(ایک لمحہ بھر کے وقفہ کے بعد ) میاں عبدالرحمن آپ نے سمن کو پڑھا بھی تھا کہ کس مقدمہ میں حاضری مطلوب ہے اور کس تاریخ کو پیشی ہوگی ؟“ حضور نہیں ! میں نے عرض کیا۔اور حضور مجھے تو سمن اور مقدمہ کے نام سے ہی ایسی گھبراہٹ ہوئی نہ کچھ سمجھا نہ بوجھا اور جو کچھ اس نے کہا میں نے لکھ کر دے دیا۔فرمایا: ”میاں عبدالرحمن غلطی ہوئی ہے۔جلد جاؤ اور اس کو تلاش کر کے تاریخ حاضری تو معلوم کرلو۔“ بہت اچھا حضور ! عرض کر کے میں گلی بازاروں میں اس چپڑاسی کی تلاش کرنے لگا۔اور آخر کم و بیش دو گھنٹہ کی تلاش اور سرگردانی کے بعد وہ مجھے مل گیا اور جس طرح حضور نے ہدایت فرمائی تھی نرمی اور حکمت سے میں نے سمن کاشنی مانگا اور حاضری کی تاریخ پوچھی۔مگر میری خوشی کی انتہا نہ رہی جب مجھے تاریخ حاضری کا علم ہوا۔میری جان میں جان آگئی۔کیونکہ جس تاریخ کے لئے مجھ پر سمن کی تعمیل کرائی گئی تھی وہ تاریخ دودن ہوئے گذر بھی چکی تھی۔میں نے جھٹ اپنے دستخطوں کے نیچے وصولی سمن کی تاریخ درج کر دی۔اور خود حضرت اقدس کے حضور حاضر ہو کر معاملہ عرض کیا۔جس پر حضور تبسم فرماتے ” اچھا ہوا اور بہت اچھا ہوا۔فرماتے ہوئے اندر تشریف لے گئے اور اسی طرح محض حضور کی توجہ کے طفیل سے