اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 77 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 77

LL آئے۔جسے وہ محض اس خیال سے ہمراہ لائے ہوئے تھے کہ اگر اور کوئی حربہ کارگر نہ ہوا تو اس ذریعہ سے مطلب براری کی کوشش کر سکیں۔کیونکہ مجھے عزیز سے بہت محبت تھی۔اور عزیز بھی چونکہ میری گودیوں کا پلا تھا اس کو مجھ سے بے حد انس تھا۔عزیز میرے پاس آتے ہی زار و قطار رونے لگا۔اور اس کی بلبلا ہٹ اور چیخ و پکار سے فطرتا میرا دل بھی بھر آیا۔مگر میں نے دل کو ضبط کیا ، اپنے حواس کو سنبھالا اور دشمن کی اس چال کے شر سے بچنے کے لئے خدا سے دعا مانگی اور اللہ کا فضل تھا مگر میرے رفقاء کو اندیشہ ہوا کہ مبادا میں اس چال سے متاثر ہو کر ان کی طرف جھک جاؤں۔سو انہوں نے میرے گرد بار بار چکر لگا کر ایسی آیات ، اشعار و اقوال با آواز بلند پڑھنے شروع کئے جن میں ایسے فتنہ کے مقابلہ کا ذکر اور اس کے بچنے کی تاکید و تدبیر کا ذکر تھا۔تھوڑی دیر میں عزیز کی طبیعت سنبھل گئی اور میں نے اسے بہلا لیا اور وہ خوش وخرم ہو کر مجھ سے بے تکلف ہو گیا جسے دیکھ کر چا صاحب کے دل میں کوئی اور خیال آنے لگا جس کے مدنظر باوجود میرے اصرار کے انہوں نے عزیز کو میرے پاس زیادہ دیر ٹھہرنے کی اجازت نہ دی اور اسے لے کر چلے گئے۔مرز انظام الدین صاحب کے ذریعہ کوشش ناکام چا صاحب پھرا کیلے ملے تاکہ میں عزیز کو ملنے کی درخواست کروں اور وہ مجھے اپنے ڈیرے میں چلنے کے لئے کہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے دل کو اطمینان و سکینت بخش دی تھی۔سو میری بے رخی دیکھ کر وہ مایوس ہو گئے اور مرزا نظام الدین صاحب کے ہاں چلے گئے۔چونکہ دونوں رسالدار میجر رہے تھے اس لئے مرزا نظام الدین صاحب بہت اخلاق سے پیش آئے اور نہ معلوم کس کس رنگ میں باتیں چا صاحب نے کیں کہ وہ متاثر ہو گئے اور مجھے بلوا کے بہت سفارش کی کہ ان کے ساتھ چلا جاؤں اور اب کے کوئی تکلیف ہوئی تو وہ ذمہ دار ہیں۔مگر میری طرف سے کو را جواب پا کر مرزا صاحب نے چچا صاحب کو صبح کے واقعہ کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ آپ نے مفسد لوگوں کے کہنے میں آ کر سخت غلطی کی۔اب کوئی کوشش کارگر نہ ہوگی۔اگر آپ میرے پاس چلے آتے تو میں شاید اس طرح بھی امداد کر سکتا کہ بھائی صاحب یعنی مسیح موعود علیہ السلام سے کہہ سن کر لڑکے کو آپ کے ساتھ بھجوا دیا اور اس طرح شاید طرفین کے تعلقات اچھے ہو سکتے۔بعد میں معلوم ہوا کہ چا صاحب قادیان میں دو دن تک صلاح و مشورہ میں مصروف رہے۔اور کئی قسم