اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 76 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 76

۷۶ ہمدردوں تک پہنچانے والا بھی کوئی نہ تھا۔مگر اس موقعہ پر جو کچھ ظاہر ہوا وہ نہایت درجہ محیر العقول تھا۔نہ جانے مجھ میں اتنی قوت کہاں سے آ گئی کہ دشمن کا مکر اور گرفت میرے مقابلہ میں کمزور دو بیچ ہوگئی۔اور وہ سبھی ایسے مرعوب اور ست ہو گئے کہ میں علی رغم انف ان کے ہاتھوں سے نکل گیا۔اور وہ کچھ نہ کر سکے اور دوڑا اور خوب دوڑ ا۔وہ بھی میرے پیچھے بھاگے اور خوب بھاگے۔میرے کان آشنا ہیں کہ جب میں ڈپٹی شنکر داس صاحب کی بیٹھک کے باہر سے بھاگ نکلا اور میرے پیچھے تین چار بھاگنے والوں کی دبر دبڑ کی آواز نے گلی میں ایک شور بپا کر دیا تو اس گھر کے مکینوں نے جو موجودہ دفاتر صدرانجمن احمد یہ ملحقہ مسجد اقصیٰ والے مکان کے اس وقت کے مالک وساکنین تھے کھڑکیوں سے سر نکالے اور اس بھا گڑ کو دیکھ کر خوب ہی مذاق اڑایا۔میری اللہ تعالیٰ نے مدد فرمائی اور میں ان کے ہاتھ نہ آیا۔اور جب مسجد مبارک کی کوچہ بندی کے قریب پہنچا تو چا صاحب بزرگوار نے میرا نام لے کر پکارا۔اور فرمایا کہ ” بات تو سن لو۔“ میں نے دوڑتے ہی دوڑتے جواب میں عرض کیا۔کہ چا ابا! چند قدم اور آگے آجائیں۔آپ جو کچھ فرمائیں گے میں سننے کو حاضر ہوں کیونکہ اس جگہ سے آگے ہماری اپنی آبادی تھی۔مگر چچا صاحب محترم نے اس وقت آگے بڑھنا مناسب نہ سمجھا اور وہیں سے بے نیل و مرام بصد حسرت واپس لوٹ گئے۔شیخ عبدالعزیز صاحب میرے یوں اچانک مسجد اقصیٰ سے نکل آنے کی وجہ سے پریشان تھے اور گو میں نے چچا صاحب محترم کو پہلی نظر دیکھتے ہی ان کو کہا تھا کہ ” بھائی جی ! جلدی چلو یہاں کچھ خطرہ ہے۔مگر وہ بات نہ سمجھ سکے۔اور مسجد کے باہر کے واقعات کو سن کر اور بھی حیران ہوئے اور چند منٹ بعد میرے پاس آ کر سارا ماجرا سنا۔اور بہت ہی تعجب کیا اور معذرت کی۔ظہر کی نماز کے بعد غالبا میرے چا صاحب محترم میرے چھوٹے بھائی عزیز بابوا مرنا تھ ” کو لے کر بابوامر ناتھ صاحب حضرت اقدس کے زمانہ میں بھائی جی کے پاس قادیان گئے تھے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا اور یہاں کتابت سیکھی تھی۔اقارب نے یہ دیکھ کر کہ دوسرا بھائی بھی ہاتھ سے جا رہا ہے بابوجی کو قادیان سے بلا لیا۔دو سال ہوئے وہ جالندھر میں فوت ہو گئے۔وہ روز نامہ پرتاپ“ جالندھر کے کاتب تھے اور مالکان اخبار اور عملہ میں بہت قابل عزت سمجھے جاتے تھے۔مکتوبات اصحاب احمد جلد اوّل صفحہ ۶۲ پر درج ہے کہ وہ ابتداء میں قادیان میں رہے۔افسوس والدہ کی دلجوئی کی خاطر دوبارہ قبول اسلام سے وہ رکے رہے اور بالآخر ہمیشہ کے لئے محروم رہ گئے۔تقسیم ملک کے بعد جالندھر میں اکثر ہماری ملاقات ان سے ہوتی رہی ہے۔