اصحاب احمد (جلد 9) — Page 66
۶۶ ورحمتہ اللہ وبرکاتہ کے الفاظ میں جواب دیا۔مگر آواز کے سنبھالنے کی بھی ساتھ ہی فکر رکھی انہوں نے ہاتھ کے اشارہ سے دور ہی دور کھڑے ہو کر خیریت پوچھ کر اسلام کا سوال کیا جس کا میں نے اشاروں ہی اشاروں میں جواب دیا اور وہ مطمئن ہو کر جلدی جلدی آگے نکل گئے۔ٹھہر نا نہ انہوں نے ہی مناسب سمجھا نہ میں نے ان کو زیادہ روکنا مناسب سمجھا اور اسی دیدہ دور کو غنیمت جانتے ہوئے آن کی آن ایک دوسرے سے جدا ہو گئے اور بات ایسی معلوم دینے لگی جیسے کسی نے خواب دیکھا ہو۔مولوی صاحب محترم اپنی جگہ خوفزدہ اور سہمے ہوئے تھے اور جو کچھ انہوں نے کیا اس سے زیادہ کوئی کر بھی نہ سکتا تھا۔اور میں اپنی جگہ احتیاط اور افشائے راز کے خیال سے جتنا موقعہ ملا اور جو کچھ ہو سکا اس کو کافی سمجھ کر صبر کر بیٹھا۔مولوی صاحب مکرم پھرتے پھراتے پوچھتے بچھاتے ہمارے ہیڈ کوارٹر سے تین چارمیل کے فاصلے پر ایک اعوان قوم کی مسلمان بستی میں شب باش ہوئے تھے۔جہاں سے ضروری حالات کا علم لینے اور احتیاطی تدابیر کے ساتھ کام کرنے کی ہدایت لے کر وہ علی الصبح اٹھے اور ہمارے ہاں پہنچے تھے۔اور دور ہی دور سے ایک دوسرے کی خبر لینے دینے کا کام ہو سکا تھا۔مولوی صاحب گاؤں کی طرف بڑھے مگر راستہ چھوڑ کر باہر ہی باہر ہو کر کھیتوں میں سے نکل گئے۔جب تک وہ نظر آتے رہے میں کھڑا ان کو دیکھا کیا۔ان کے آنکھوں کے اوجھل ہو جانے کے بعد کچھ سوچ اور فکر کے بعد میں گھر کے اندر چلا گیا۔اور چونکہ مجھ پر اس وقت ایک خاص حالت طاری تھی سب سے جدا ہو کر لیٹ گیا اور کسی گہری سوچ میں پڑ گیا۔ابھی میں اسی سوچ ہی میں تھا کہ والد صاحب محترم باہر سے جلد جلد آئے اور میرے متعلق دریافت فرمایا کہ کہاں ہے؟ اور پھر میرے پاس تشریف لا کر پوچھا۔”آج کون مولوی آیا تھا۔اور وہ کیا کہتا تھا۔اب وہ کدھر کو گیا ہے؟‘ لب ولہجہ سے غم وغصہ عیاں تھا۔میں بھانپ گیا کہ مولوی صاحب کی آمد کی اطلاع والد صاحب کو ہو گئی ہے۔مگر میں نے تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے عرض کیا۔کون مولوی صاحب آپ کی مراد ہیں؟ میں نہیں جانتا کدھر سے آئے اور کدھر کو گئے۔والد صاحب پھر جلدی جلدی باہر چلے گئے اور مجھے اب یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ مولوی صاحب پکڑے گئے ہوں تو مشکلات کا ایک نیا باب میرے واسطے کھل جائے گا۔اتنے میں والد صاحب نے آ کر والدہ صاحبہ کو سنایا کہ خبر ملی تھی کہ پٹوار خانہ کی طرف سے ایک اس رنگ و شکل کا مولوی گاؤں کی طرف بڑھتا ہوا دیکھا گیا تھا۔مگر وہ بجائے گاؤں میں سے ہو کر جانے کے باہر باہر نکل گیا۔جس سے شبہ ہوا کہ کوئی قادیان کا