اصحاب احمد (جلد 9) — Page 60
۶۰ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ کی سریلی اور کیف آور گونج گوش ہوش سے سن پاتی تو یقیناً اس میں زندگی کی جھلک اور امید کی لہر دوڑنے لگتی۔جس سے مجھے ان مشکلات اور ابتلاؤں پر فتح پانے اور غالب آنے کی قوت وعزم میسر آ جاتا۔اور دل کو غیر معمولی سکون اور ڈھارس نصیب ہوتی۔دارالامان کی مختصر سی اس زندگی میں بارہا میں نے حضور کی زبان مبارک سے قرآن کریم کی یہ آیت سنی اور سن سن کر ہی یاد ہو گئی تھی۔اور جس موقعہ اور محل پر حضور اس کا ذکر فرمایا کرتے اور جو مفہوم ومقصد حضور اس سے لیا کرتے تھے وہ میرے ذہن میں مستخصر ہو جاتا۔اور جو مثالیں حضور اس مضمون کی تائید میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کے حالات اور واقعات کا ذکر فرما کر بیان فرمایا کرتے سبھی یاد آ کر میرے دل کو قوی کر دیا کرتی تھیں۔سید نا حضرت مسیح پاک علیہ الف الف صلوۃ وسلام کا ایک اور مقولہ بھی ایسے واقعات میں اکثر میری رہنمائی کیا کرتا تھا۔” خدا داری چہ غم داری۔“ یہ کلمات بھی حضور کی زبان مبارک سے اکثر سننے میں آیا کرتے تھے اور اسی وقت مجھے یاد ہو چکے تھے۔ورنہ اس سے قبل میں نے یہ کلمات نہ کبھی سنے تھے نہ کبھی پڑھے تھے۔یہ کلمات اپنے اندر جو مقناطیسی اثر رکھتے ہیں یاد آ کر لاز ما مجھ پر بھی اثر انداز ہوتے اور زندگی میں تازگی کی روح پھونک دیا کرتے تھے۔قصہ مختصر جوں جوں ہمارا قافلہ اس بستی کی طرف بڑھتا اور قریب ہوتا جاتا تھا توں توں میری روح پیچھے کو بھا گئی اور اپنے آقا کے حضور فریاد کر کر کے طالب مرد و دعا ہوتی تھی۔ابتداء سے انتہاء تک کے سارے حالات و واقعات آنکھوں کے سامنے آ رہے تھے۔-1 -۲ -٣ اول مرتبہ حضرت کے پیش ہونے کے وقت میری کم عمری اور بچپنے کی وجہ سے جو کچھ اس مرسل میز دانی نے فرمایا۔والد صاحب کے قادیان پہنچ کر میرے حصول کی کوشش کرنے کے نتیجہ میں آخر جو کچھ حضور نے فرمایا۔مخدومنا حضرت حکیم الامت مولانا مولوی نورالدین صاحب کی درخواست پر کہ حضور نے عبد الرحمن کو والد کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے اگر حضور پسند فرما ئیں تو بھائی عبدالرحیم کو ان کے ساتھ بھیج دیا جائے۔“ کے جواب میں جس رنگ میں اور جس جوش میں میرے آقا نے اظہار