اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 57 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 57

چرچا ہے۔کسی کی مجال نہیں ہماری طرف آنکھ بھی اٹھا سکے۔مگر تم نے جو کام کیا ہے اگر اس کا علم کسی کو بھی ہو گیا تو ہماری ساری عزت برباد اور رعب کا فور ہو جائے گا۔ہماری ناک کٹ جائے گی اور ہم کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہ رہیں گے۔لہذا خبر دار! اب کڑی نماز اور کڑ ا قرآن پڑھنے کی اجازت نہ ہوگی۔برابر تین روز سے میں تمہاری ان کرتوتوں کو دیکھتا اور خون کے گھونٹ پیار ہا ہوں۔اب بھی اگر تم ان حرکات سے باز نہ آئے اور مسلمانی رنگ تمہاری کسی طرز ادا سے بھی ظاہر ہوا تو یاد رکھو کہ تمہاری جان کی خیر نہیں۔تمہارا کام تو بہر حال تمام کر دیا جائے گا۔پیچھے جو ہو گا دیکھا جائے گا۔تمہیں خوب معلوم ہے کہ اس علاقہ میں تمہاری کوئی مدد تو کیا خبر بھی نہ پاسکے گا۔کیونکہ خون کر کے کھپا دینا ہمارے واسطے یہاں کوئی مشکل نہیں۔خصوصاً تمہارے جیسے نالائق اور نا نہار لڑکے کا تو ہونے سے نہ ہونا ہی اچھا ہے۔تم وہاں خط و کتابت کے وعدے اور عہد و پیماں کر آئے ہو مگر میں دیکھوں گا کہ کون تمہیں لکھتا ہے اور کس کو تم جواب دیتے ہو۔کسی مسلے کی مجال کیا کہ تم سے مل بھی سکے۔پس اگر بھلا چاہتے ہو تو سید ھے تیر ہو جاؤ اور مسلمانی کے خیال کو بھی دل سے نکال دو وغیرہ وغیرہ۔یہ وہ خلاصه در خلاصہ ہے اس خطاب کا جو والد صاحب نے انتہائی غم وغصہ اور شدت غیظ وغضب کے جوش میں اپنے جلے ہوئے دل کے پھپھولے پھوڑنے کو مجھ سے فرمایا جسے میں نے پہلی مرتبہ بھی سنا اور دوبارہ اور بھی تیز و تند الفاظ میں اور زیادہ غضب آلود لہجہ میں سنا۔جس کے نتیجہ میں سچ سچ میرا سارا جسم کانپ گیا۔اور دہشت کے مارے میں سہم گیا۔مگر پھر بھی کوئی جواب نہ دے سکا اور خاموش کھڑا رہا۔جواب کا نہ دینا اور خاموشی اختیار کئے رہنا تسلیم و رضا کی وجہ سے نہ تھا۔بلکہ والد صاحب کے مقصد و منشا کے خلاف ایک خاموش احتجاج تھا۔اور اسے خود والد صاحب بھی محسوس کرتے تھے۔اور جانتے تھے کہ یہ خاموشی ان کی مرضی کو پورا کرنے اور ان کی خوشی کو حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ ان کی مخالفت پر اصرار اور ضد تھی۔چنانچہ انہوں نے مجھے جھٹک کر ایک قسم کی رنج گلو گیر کی حالت میں فرمایا۔اچھا گھر چل کر دیکھا جائے گا۔“ اور اس کے بعد اپنے دوست کے کمرہ میں جا داخل ہوئے اور میں بھی ان کے پیچھے پیچھے اندر چلا گیا۔والد صاحب الگ ایک کمرہ میں دیر تک ان سے باتیں کرتے رہے جو زیادہ تر اسی پیش آمدہ امر کے متعلق تھیں۔وہ صاحب اگر چہ والد صاحب کے گہرے دوست اور راز دار تھے۔مگر میں نے محسوس کیا کہ والد صاحب نے اس امر خاص کو ان سے بھی پوشیدہ ہی رکھا۔اگر چہ میری تلاش میں اپنی