اصحاب احمد (جلد 9) — Page 54
۵۴ آئندہ پیش آنے والی مشکلات کے متعلق آپ کا ماتھا ٹھنکا۔اور آپ نے ایک دفعہ پھر اس قید و بند سے نجات پانے کی ٹھان لی۔لیکن دوسری طرف ایک زبر دست قوت اور نہ مغلوب ہونے والی طاقت تھی۔جو یہ تلقین کرتی تھی کہ بھاگ کر کہاں جاؤ گے؟ اس طرح اپنے آقا کے نافرمان کہلاؤ گے اور قادیان سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاؤ گے۔بہتر یہی ہے کہ تعمیل ارشاد کرو اور مشکلات کا مقابلہ کرو۔حضرت اقدس نے والد محترم سے ایک با قاعدہ تحریری معاہدہ لے کر والد کے ساتھ جانے کا حکم دیا ہے خلاف ورزی کر کے کس منہ سے واپس جاؤ گے اور اپنے آقا کو کیا عذر سناؤ گے۔انہی خیالات میں آپ کو نیند آ گئی۔بیدار ہوئے تو عزیز و بزرگ آئے بیٹھے تھے۔ملاقات وشکوہ شکایت کے بعد کھانے کے لئے تقاضا ہوا۔آپ نے طبیعت کی خرابی کا عذر کیا اور گھر نہ گئے نہ کھانا کھایا۔اور والد صاحب نے بھی مدد کی۔اور اعزہ کی توجہ دوسری طرف پھیر دی۔اور ایسی حکمت عملی سے کام لیا کہ سسرال کے نام ونمود اور رسوم و قیود کے سخت پابند ہونے کے باوجود اتنے تھوڑے وقت میں لڑکی کو روانہ کرنے پر رضا مند ہو گئے۔ان کی اس مصروفیت کے وقت آپ نے قریب کے گھنے درختوں کے جھنڈ میں نمازیں ادا کیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور دستگیری کے لئے عرض کیا مبادا کسی غلط قدم کے اٹھانے سے آپ ہلاکت کے گڑھے میں جا پڑیں۔دعا کا درواز ہ آپ پر بچپن سے ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے کھول رکھا تھا۔جس کے طفیل کفر و ضلالت سے نکال کر اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس کے در پر لا کھڑا کیا تھا۔اور حضور کے انفاس طیبہ اور تو جہات کریمانہ سے آپ کی معرفت و یقین میں بے حد ترقی ہوئی تھی حتی کہ جسے آپ پہلے زرخالص یا بے بہا ہیرا سمجھتے تھے اب وہ کھوٹا پیسہ یا محض ایک پتھر نظر آتا تھا۔سو آپ نے حی و قیوم۔اور بے آسروں کے آسرا خدا تعالیٰ کے حضور دعا کہ آپ کو وہ اس راہ پر قائم کر دے جس میں اس کی رضا ہو۔ابھی آپ نے آستانہ الوہیت سے سر نہیں اٹھایا تھا کہ آسمان سے ایک نورا تر تا اور آپ پر سکینت ڈالی جاتی ہے جس سے آپ کا دل و دماغ منور ہو کر آپ کو ایک غیر معمولی طاقت وقوت مل جاتی ہے اور آپ کو کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔اور ایک مضبوط چٹان کی طرح قومی عزم اور غالب جزم عطا ہوتا ہے۔اور مصائب و خطرات کی بھیانک تصویر میں جو کچھ دیر پہلے آپ کو ڈراتی اور ہلاکت آفرین منظر پیش کرتی تھیں دور اور کا فور ہوگئیں۔آپ ہشاش و بشاش قیام گاہ پر واپس پہنچے۔جہاں والد اور ا قارب منتظر تھے۔اور یہ سب ایسے رنگ میں آپ سے ملے کہ آپ کو اپنی دعاؤں کی قبولیت کا یقین ہو گیا۔