اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 53 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 53

۵۳ احتیاطاً سیدھا راستہ چھوڑ کر چکر لگایا ہے۔گویا ان کو ابھی تک یہ خطرہ باقی تھا کہ مبادا کوئی تعاقب کر کے مجھے ان کے ہاتھ سے چھڑانے کی کوشش کرے۔اور اسی وجہ سے انہوں نے امرتسر کا راستہ اور ریل کی سواری چھوڑی تھی۔اور کہ وہ اب مجھے ڈیرہ بابا نانک سے سیالکوٹ اور وہاں سے وزیر آباد لے جائیں گے جہاں سے انہی دنوں میں ریل لائن موجودہ لائل پور کی طرف نکل رہی تھی اور چھکڑے وغیرہ سانگلہ ہل تک چلنے لگے تھے۔چلتے چلتے ڈیرہ بابا نانک آیا۔راستہ چھوڑ کر ایک طرف ہو کے یکہ ٹھہرایا گیا۔گھوڑے کی مالش چاپی ہوئی نہاری وغیرہ دے کر اسے تازہ دم کیا گیا۔اور خود ناشتہ وغیرہ سے فارغ ہو کر آگے کو روانہ ہوئے۔راستہ میں دریائے راوی پڑتا تھا۔تین اور بیٹری کا راستہ تھا۔اور چونکہ یہ علاقہ ہمارا قدیمی وطن تھا لہذا کچھ زیادہ احتیاط اختیار کی جانے لگی۔اور وضع قطع میں تغیر کے علاوہ راستہ کتر کتر کر چلنے کی کوشش کی گئی۔تاکہ کنجروڑ وغیرہ اپنے دیہات کی طرف سے آنے والے واقف کاروں کے سوال جواب سے بچاؤ ہو سکے۔در یا پر پہنچ کر ایسی کوشش کی گئی کہ دریا سے اس پار کی سواریاں لانے والی کشتی سے پہلے ہی پہلے دوسری ناؤ میں بیٹھ کر نکل جائیں۔کیونکہ ہمارے دیہات سے لوگ عموماً پہلی ناؤ سے آتے تھے اور ان دنوں ہمارے اس علاقہ کا تجارتی مرکز ڈیرہ بابا نانک تھا۔سوکسی واقف کار سے ہمارا سامنا نہ ہوا۔“ سسرال پہنچ کر بیوی کو ساتھ لے جانا راقم عرض کرتا ہے: دریا پار ہو کر یکہ جلد جلد چل کر یہ قافلہ دس بجے کے قریب موضع ویرم دتاں کے قریب پہنچ گیا جہاں بھائی جی کا سسرال تھا۔خیال تھا کہ بہ حالات موجودہ وہاں جانے کی بجائے موضع کنجر وڑ دتاں والا جائیں گے جہاں ددھیال کا رشتہ اور اپنے مکانات تھے۔لیکن خلاف توقع موضع دیرم والد لے گئے اور ایک چوگان میں ڈیرے ڈال دیئے اور آپ کو بڑی شفقت اور نرمی سے کہا کہ یہاں تمہارے سسرال ہیں اور ہماری برادری ہے۔نماز پڑھنی ہو تو کہیں تنہائی میں جا کر پڑھ لینا اور اپنے اسلام کی کسی کو خبر نہ ہونے دینا۔ورنہ ہماری بے حد ذلت ہوگی۔اور ہم جہاں برادری میں منہ دکھانے کے لائق نہ ہوں گے وہاں تمہاری بیوی کو ساتھ لے جانے میں بھی کامیابی نہ ہو سکے گی۔آپ کے خیالات میں ایک خطر ناک جنگ چھڑ گئی۔گو والد محترم کی باتوں میں لجاجت کا رنگ تھا مگر