اصحاب احمد (جلد 9) — Page 52
۵۲ کچھ عادتا اور کچھ تھکاوٹ کے باعث رک گیا۔اور میں نے بھی اتر کر نماز گذاری۔اللہ کے حضور عرض حال کیا۔پیش آمدہ حالات کے مدنظر دعائیں مانگیں اور فارغ ہو کر اٹھا ہی تھا کہ پھر وہی جلدی کرنے کا حکم ملا۔تعمیل ارشاد کی اور یکہ بان گھوڑے کو تیزی سے ہانکنے لگا۔شام قریب تھی۔گھوڑا کمزور ہو رہا تھا۔ابھی ساڑھے تین میل باقی تھے چلتے چلتے شام ہوگئی اور بٹالہ پہنچتے پہنچتے خاصا اندھیرا چھا گیا تھا۔والد صاحب نے بٹالہ منڈی کی قدیم سرائے میں علیحدہ جگہ میں رات گزارنا پسند کیا جو ان دنوں (۱۹۳۵-۳۶ء) میں میونسپل کمیٹی بی کا دفتر ہے اور تحصیل کی عمارت کے جانب جنوب بٹالہ قادیان کی سڑک کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔اور جس کے چاروں کونوں پر چار گول برج اور بڑا شاندار بلند و بالا دروازہ شمالی جانب بنا ہوا ہے اور اس عمارت کے جنوب میں ایک وسیع تالاب واقع ہے جو آجکل پانی سے خالی اور خشک ہے پہلے زمانہ میں عموماً بھرارہتا تھا قیام پذیر ہوئے یہ جگہ اس زمانہ میں سرائے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔والد صاحب میرے لئے کھانا لے آئے۔جس سے فارغ ہو کر ہم لوگ سور ہے۔رات کے پچھلے پہر عادتا میری آنکھ کھل گئی تو میں ذکر میں مشغول ہو گیا۔آہٹ پاکر والد صاحب بھی چونک پڑے اور گھبرا کر مجھے پکارا میری آواز سن کر مطمئن ہو گئے۔بٹالہ سے روانگی میں نہ سمجھا کہ جب کہ بٹالہ سے گاڑی ملتی ہے۔اب کیوں یکہ پر روانہ ہورہے ہیں اور رات کے اندھیرے میں کدھر جارہے ہیں۔چند میل پر اجالا ہونے پر صبح کی نماز کی فکر ہوئی اور اجالا بڑھنے کے ساتھ میری گھبراہٹ میں اضافہ ہوتا گیا۔اور ایک جگہ لب سڑک ایک چلتا کنواں دیکھ کر مجھ سے نہ رہا گیا اور یکہ ٹھہرانے کی درخواست کی جو والد صاحب نے منظور کر لی اور میں نے نماز ادا کی۔اب میلوں کے نشانات سے معلوم ہوا کہ یہ سڑک ڈیرہ بابا نانک کو جاتی ہے اور والد صاحب نے اختتام ۱۹۶۰ء سے چند ماہ قبل اس عمارت میں میونسپل کمیٹی کے دفتر کے علاوہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کی عدالت بھی تھی۔اب یہ عدالت اور بٹالہ کی دیگر تمام عدالتیں ریسٹ ہاؤس کے احاطہ میں جہاں گذشتہ سال عمارات تعمیر ہوئی ہیں، منتقل ہو گئی ہیں۔اب عمارت ہذا میں دفتر میونسپلٹی اور اسسٹنٹ رجسٹرار کو اپریٹو سوسائیٹیز کا دفتر گو یا دود فاتر ہو گئے ہیں۔