اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 416 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 416

۴۱۶ آپ نے اپنے نام کے ساتھ جو قادیانی کا لقب لگایا اس کو پورے طور پر نباہا۔پارٹیشن کے بعد آپ برضا ورغبت درویشوں میں شامل ہو گئے۔قادیان سے باہر آنے سے ہمیشہ گھبراتے تھے مگر شوق دیدار حضرت مصلح موعود آپ کو پاکستان لے آتا تھا۔آپ کا یہ آخری سفر آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سچا خادم ہونے کی دلیل بن جاتا ہے۔جبکہ ہمیں یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ آپ سفر کے لئے قادیان سے باہر نکلنا نہ چاہتے تھے۔لیکن اپنی اہلیہ محترمہ کے منشاء کے ساتھ اتفاق کرتے ہوۓ خیر کم خیر کم لاهله کا ثبوت بہم پہنچاتے ہوئے سفر کی صعوبت اختیار کرلی۔حضور مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی آخر سفر لا ہور کے لئے اول اول تیار نہ تھے۔لیکن حضرت ام المومنین کی خواہش کے مطابق آپ نے سفر لاہور اختیار کر لیا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لاہور میں وفات پا کر اپنے مخلصین کو آخری خدمت کا بہت موقعہ دیا۔حضور کا جسد اطہر بٹالہ سے قادیان کندھوں پر لے جایا گیا۔اور لاہور کے احمدی احباب کو نماز جنازہ پڑھنے کی توفیق ملی۔اسی طرح حضرت بھائی صاحب نے بھی بہت سے احباب کو اپنی میت کے لے جانے میں خدمت کا موقعہ عطا فرمایا۔اور آپ کا جنازہ شاندار طریق پر ربوہ میں پڑھا گیا اور پھر قادیان میں بھی پڑھا جائے گا۔انشاء اللہ۔خاکسار راقم کو آپ کی جدائی کا بہت صدمہ ہے خصوصاً اس وجہ سے کہ وہ ہمارے سفر یورپ ۱۹۲۴ء کے بارہ ساتھیوں میں سے ایک ساتھی تھے جو ہم سے جدا ہو گئے“۔محترم مرز او سیم احمد صاحب کے تاثرات سید نا حضرت خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے لخت جگر محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوۃ و تبلیغ قادیان نے اپنی مصروفیات کے باعث مختصر البعض امور تحریر کئے ہیں اس اختصار کو ہی بابرکت اور موثر پاکر میں نے یہاں درج کرنا مناسب سمجھا ہے گو انہوں نے اجازت دی تھی کہ میں اس کی تفصیل تیار کرلوں۔آپ رقم فرماتے ہیں کہ تقسیم ملک کے بعد قادیان میں بہت سے ایسے احباب قیام پذیر ہوئے جن کو اس سے قبل قادیان آنے کا بہت کم موقعہ ملا۔یا وہ پہلی دفعہ قادیان آئے تھے۔ان کے قلوب میں شعائر اللہ کی عظمت ، ان کا احترام، ان کی حفاظت اور ان کی صفائی کا خیال بہت گہرے طور پر حضرت بھائی