اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 415 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 415

۴۱۵ که قریباً ترین سال گذر چکے ہیں آپ کا گرویدہ چلا آرہا تھا مجھے بہت ہی خوشی ہے کہ آپ کی زیارت کا آپ کی زندگی کے آخری دنوں میں بھی مجھے موقعہ نصیب ہوا۔میرا دل محبت کے جوش سے ان کے حجرہ میں لے گیا جبکہ آپ مہمانخانہ ربوہ میں قادیان کی واپسی کی تیاری کر رہے تھے ( پہلے کراچی جا کر ) میں نے شکر ربی کیا کہ عین وقت پر ملاقات نصیب ہوئی۔جبکہ آں محترم نے ایک گھنٹہ بعد واپسی کے سفر پر روانہ ہو جانا تھا۔یا یوں کہو کہ داغ مفارقت دے جانا تھا۔اس وقت کی ملاقات کے وقت جو کچھ یہ عاجز گویا ہوا وہ یہ تھا: ” بھائی جی میں ابھی ابھی ۱۴ / جولائی ۱۹۰۸ء کا الحکم پڑھ کر آرہا ہوں۔اس اخبار میں آپ کی ضبط کردہ تقریر جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے رؤسائے لاہور میں ۷ ارمئی کو فرمائی تھی درج ہے۔اس تقریر کو پڑھ کر میرے دل سے آپ کے لئے بہت دعائیں نکلیں۔“ میری یہ ملاقات قریباً پانچ منٹ رہی۔اس سے زیادہ کی گنجائش نہ تھی کہ آپ کا سامان سفر باندھا جا رہا تھا۔جب کل مجھے آپ کی وفات کا علم ہوا تو اگر چہ آپ کی جدائی شاق تھی۔لیکن دوسری طرف میں اپنی خوش بختی پر نازاں بھی تھا۔اس عاجز کو جس طرح ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کی شام کے وقت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت وفات سے صرف بارہ تیرہ گھنٹے پہلے نصیب ہوئی تھی اسی طرح حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کی زیارت بھی اپنی دلی محبت کی بناء پر وفات سے صرف دوروز پہلے نصیب ہوئی۔ذالک فضل اللہ۔حضرت بھائی صاحب جیسا کہ آں محترم کے صفاتی نام سے عیاں ہوتا ہے واقعی جماعت احمدیہ کے مرکز کے ساکنین کے لئے بھائی ہی تھے۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت کرنا عین سعادت سمجھتے تھے اور نہایت تندہی سے یہ کام سرانجام دیتے تھے۔علاوہ اس کے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آخری سفر لاہور میں آں محترم کو حضور کی معیت حاصل تھی جو آپ کی خدمت گزاری کی قدر کا ثبوت ہے۔آپ حضرت خلیفہ السیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بہت سے ابتدائی سفروں میں شامل ہوئے۔۱۹۲۴ ء کے سفر یورپ میں بھی بھائی صاحب شامل تھے۔۱۹۵۵ء میں بھی حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز آں محترم کو ساتھ لے جانے کا ارادہ رکھتے تھے مگر بعض مجبوریوں کی وجہ سے بھائی صاحب نہ جاسکے۔