اصحاب احمد (جلد 9) — Page 409
۴۰۹ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ خصوصاً قدیم صحابه روحانی طور پر زندہ جاوید ہیں۔اور ہمارے لئے مشعل راہ ہیں ان کی وفاداری اور قربانیوں کے علم سے ہمیں یہ معلوم ہو سکتا ہے کہ ان کا مقام کس قدر عظمت کا حامل تھا۔حضرت بھائی جی کو میں اپنے بچپن سے جانتا ہوں۔ابتداء میں جبکہ ابھی آپ کا مکان تعمیر ہوا تھا۔تو آپ ہمارے پڑوس میں یعنی تراب منزل کے ساتھ والے مکان میں قیام رکھتے تھے۔اس وقت ابھی آپ کے دو بچے تھے یعنی بڑے لڑکے اور آپ کی بیٹی۔مجھے آپ کو عرصہ دراز تک نہایت قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔وَالْعَدِيتِ ضَبْحًا کے رنگ میں آپ ایسے ہی انسان تھے جو تھک جانے کے باوجود تازہ دم کی طرح ہر وقت مستعد اور چاق و چوبند رہتے تھے وہ سلسلہ کے کاموں کے لئے اور سید نا حضرت امیر المومنین خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے کاموں کے لئے ہر وقت تیار رہتے تھے اور تھکنا نہیں جانتے تھے۔ان کے لئے فرائض کے انجام کی خاطر دن رات یا گرمی سردی کا سوال کوئی اہمیت نہ رکھتا تھا۔جب کوئی کام جس کے لئے سفر ضروری ہوتا نکل آتا تو سواری یا پیدل کا سوال آپ کے لئے کبھی روک نہیں بنتا تھا۔اور یہ چستی و چالا کی آپ کی فطرت میں اس قدر زیادہ تھی کہ آپ نے اپنی رفیقہ حیات ( جنہیں ہم پنجابی زبان میں ماسی جی کہتے ہیں) کو بھی اپنی طرح کبھی آرام نہ کرنے والا بنا لیا تھا۔بلکہ یہ خوبی آپ کی تمام اولاد میں بھی موجود ہے مومن خود نشیط اور مستقیظہوتا ہے اور دوسروں کو چست و چالاک اور بیدار رہنے والا بنے کی تلقین کرتا ہے۔بعض اوقات ہمارے گھر میں کوئی بیمار ہو جاتا تو آپ ماسی جی کو بار بار بھیجتے کہ جاؤ خبر لے کر آؤ۔اور بسا اوقات رات کے وقت ماسی جی ہاتھ میں لالٹین لے کر تنہا آجاتیں۔اور فرما تھیں کہ امتہ الرحیم کے ابا تقاضا کر رہے تھے کہ جاؤ خبر لے کر آؤ۔اخی المکرم شیخ محمود احمد صاحب عرفانی مرحوم کی علالت پر دن کے علاوہ رات کو اکثر بھائی جی اور ماسی جی لالٹین ہاتھ میں لے کر شدید سردی میں آتے جب تک وہ ایسا نہ کر لیتے ان کو اطمینان سے نیند نہیں آتی تھی یہ اس امر کی دلیل تھی کہ جہاں آپ حقوق ہمسایہ ادا کرنے میں کوتا ہی نہ فرماتے وہاں ان کے دل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی رفاقت اور پاک صحبت میں رہنے والے دوسرے صحابیوں کا جذبہ ء احترام و عزت بدرجہ اتم موجود تھا۔اور بدیں وجہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی الاسدی کے مقام کا جو ادب اور احترام حضرت بھائی جی کے دل میں تھا۔اسی