اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 408 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 408

۴۰۸ فخر محسوس کرتے تھے۔سوائے آخری دو تین سال کے باوجود ضعیف العمری کے آپ کا حافظہ بہت باریک اور پختہ تھا اور آپ کو حضرت اقدس علیہ السلام، حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے مبارک زمانوں کے حالات و کوائف پوری تفصیلات سے ازبر تھے۔اسی طرح قادیان کے مقدس مقامات کے متعلق تفصیلات بھی یاد تھیں۔اور آپ نہایت پُر جوش اور رقت آمیز لہجہ میں اور انتہائی عقیدت و محبت کے ساتھ ان تفصیلات کو بیان کرتے تھے۔بٹالہ اور گورداسپور میں جن مقامات پر حضرت مسیح موعود قیام پذیر ہوئے تھے وہ بھی آپ کے ذہن میں گہرے طور پر مرتسم تھے۔آپ نے حضرت اقدس کی جنازہ کی جگہ کی نشاندہی کی تھی تو وہاں سردی کی شدت کے باوجود نلا ئی کرنا۔گھر پے سے روشوں کو درست کرنا محبت و عشق والی محنت و مشقت کی ایک زریں مثال ہے۔آپ کی ایک اور نمایاں خوبی یہ تھی کہ جب آپ پر سلسلہ کی طرف سے کوئی ذمہ داری عائد کی جاتی تھی تو آپ اس کو نبھانے کے لئے پورے طور پر احساس کرتے۔چنانچہ موجودہ دور میں بارہا دیکھا گیا کہ آپ علالت یا ضعف سے نڈھال ہونے کے باعث گھر میں چار پائی پر دراز ہیں۔لیکن دفتر سے یہ اطلاع ملنے پر کہ آپ کو قائم مقام امیر مقامی یا ناظر اعلیٰ مقرر کیا گیا ہے تو آپ فوراً کمر بستہ ہو جاتے۔اور یوں معلوم ہوتا کہ آپ کے ناتواں اور سال خوردہ جسم میں یکدم طاقت اور چستی پیدا ہوگئی ہے اور آپ حتی المقدور کام سرانجام دیتے اور ہر کام میں ذاتی دلچسپی لیتے اور جس کا رکن کے ذمہ کام ہوتا اس کے پاس پہنچ کر اس کی سرانجام دہی کے لئے تاکید فرماتے۔یہی وہ فرض شناسی کا جذبہ تھا جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی اور نجی کاموں کی سرانجام دہی اور اس کی وجہ سے تقرب کا موقعہ ملا۔بلکہ ۱۹۲۴ء کے سفر یورپ میں بھی ہمسفر ہونا نصیب ہوا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔اور ان بزرگوں کے نیک نمو نے ہماری زندگیوں میں منعکس فرمائے۔اور ہمیں اپنی رضا کے عطر سے ممسوح کرے۔آمین۔تاثرات شیخ یوسف علی صاحب عرفانی اخی المکرم شیخ یوسف علی صاحب عرفانی الاسد می مقیم بمبئی ابن حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی تحریر کرتے ہیں کہ