اصحاب احمد (جلد 9) — Page 26
۲۶ لہذا مصدقین حضرت اقدس کبھی مجھے بھی مخاطب کر لیا کرتے۔کیوں بھائی جی ٹھیک ہے نا ؟“ میں نے چونکہ حضور کی کتاب ” انوار الاسلام پڑھی تھی اور توجہ اور شوق سے پڑھی تھی میں مصدقین کی تائید میں ہوا کرتا تھا۔مگر مخالفین کو یہ پسند نہ تھا وہ مجھے یہ کہہ کر بھائی جی! یہ ہمارے مذہبی معاملات ہیں۔آپ انہیں نہیں سمجھتے آپ نہ بولیں، روکنا چاہتے۔مگر ایک حق بات جس کی مجھے سمجھ آ چکی تھی۔کہنے سے میں نہ رکتا اور ان کو چیلنج کیا کرتا کہ مجھ سے گفتگو کر لیں۔مگر وہ مجھ سے بات کرنا پسند نہ کرتے۔نماز شروع کردی غرض اس طرح بالا خانے پر مجھے سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الف الف الصلوۃ والسلام کا نام پہنچ گیا۔اور حضور" کا کلام بھی مجھے میسر آ گیا جس کو میں نے شوق سے پڑھا اور وہ میرے دل و جان میں رچ گیا۔اس سے پہلے مجھے حضور پاک کے متعلق کوئی علم و اطلاع نہ تھی۔گو میرے دل میں اسلام کی محبت گھر کر چکی تھی اور ایمان میرے رگ و پے میں سرایت کر گیا ہوا تھا۔مگر سیدنا مسیح پاک علیہ الصلوۃ والسلام کا کلام معجز بیان پڑھنے کے بعد میرے دل میں ایک نیا نور معرفت اور عرفان پیدا ہو گیا۔ابھی تک مجھے نماز نہ آتی تھی مگر اب میں نے سبقاً سبقاً دو تین روز میں نما ز یاد کر لی اور باقاعدہ نماز پڑھنا بھی شروع کر دیا۔میرے میزبان پڑھتے یا نہ پڑھتے مگر میں وقت پر نماز کے لئے کھڑا ہو جایا کرتا۔حضرت میر حامد شاہ صاحب سے ملاقات اور قادیان جانے کا مشورہ روپیہ تھوڑا رہ جانے پر میں نے اس اظہار کے بغیر ہی سید بشیر حیدر صاحب سے چند روز کی اجازت چاہی اور اپنے تایا مہتہ ہیمراج کے پاس چلا آیا جو پشاور کے پاس ایک گاؤں میں بسلسلہ ملازمت پٹوار رہتے تھے۔گوشاہ صاحب نے کہا بھی کہ اگر خرچ کے واسطے جاتے ہو تو نہ جاؤ۔قریباً ایک ماہ بعد واپسی پر تا یا صاحب سے میں نے کچھ خرچ بھی لے لیا اور واپس سیالکوٹ آ گیا۔جس کے چند ہی روز بعد میں نے سید صاحب سے کہا کہ اب میں اپنے خیالات کو چھپا نہیں سکتا اور چاہتا ہوں کہ اظہا را سلام کر دوں۔یہ سن کرسید صاحب جو دل سے چاہتے تھے مگر مجھے زبانی کچھ نہ کہتے تھے خوش ہوئے اور فوراً جا کر حضرت سید میر حامد شاہ صاحب کے پاس عرض کر دیا۔انہوں نے وقت دے کر مجھے بلوایا اور محبت اور اخلاص سے پیش آئے۔اور میری زبان سے میری غرض و مقصد سن کر مجھے قریباً ایک گھنٹہ تک نہایت موثر پیرا یہ میں تلقین