اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 382 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 382

۳۸۲ نرخ ایک روپیہ فی مربع فٹ = ۵۵۲ (پانچ صد باون) میزان وضاحتی نوٹ = ۵۶۴۲ ( پانچ ہزار چھ سو بیالیس روپے ) بظاہر دور سے دیکھنے میں مکان پختہ نظر آتا ہے۔لیکن اندر سے مکان کی حالت بہت اچھی نہیں۔جابجا سے دیوار میں پھٹی ہوئی ہیں۔بہت سا حصہ چنائی کا روڑہ اینٹ سے تیار ہوا ہے اس لئے تخمینہ کرنے میں ہر ایک بات کا مدنظر رکھنا ضروری تھا۔“۔آپ نے اپریل ۱۹۳۵ء میں دفتر کو یہ تحریر کیا کہ دسمبر ۳۴ ء سے میں بوجہ بیماری محمود آباد سندھ سے جہاں پر مجھے چند ماہ سے ساٹھ روپیہ ماہوار گزارہ ملتا تھا واپس بلوالیا گیا ہوں اور بالکل بیکار ہوں۔کوئی آمد نہیں بلکہ قرض دام کر کے گزر کر رہا ہوں جس کا بار میرے مکان پر پڑ رہا ہے اور مکان پر پہلے قرضہ کے ساتھ اور بار بڑھتا جارہا ہے۔“ میں نے وصیت کی ہوئی ہے اور انہی وجوہات سے میرا خانہ وصیت خالی یا زیادہ تر خالی پڑا ہوگا۔آجا کے میرے پاس ایک مکان ہے۔جو زیادہ تر میں نے اپنے بیوی بچوں کی شرکت میں ہاتھوں کی محنت سے بنایا اور خدا کے فضل نے اسے کھڑا کیا ہوا ہے۔عیالداری کی ضروریات کے لئے آخر کوئی راہ پیدا کرنا ہی پڑتی ہے۔جو قادیان میں میرے لئے قریباً ناممکن سی ہوگئی ہے۔پونچی نہیں کہ تجارت کروں۔ایسی صورت نہیں کہ ) نوکری کرسکوں۔عمر کا تقاضا نہیں کہ اب قادیان سے باہر روٹی کے لئے نکلوں۔لہذا مجبوراً اس مکان کی اینٹوں پر گزر کرنا پڑتا ہے۔اور یہ اینٹ پتھر زیر بار ہوتے جارہے ہیں۔آپ کا اعلان پڑھ کر عرض کیا تھا کہ اندازہ کرا کے اس کی قیمت کا فیصلہ کرا لیں۔تا کہ اگر نقدی نہیں تو کچھ اینٹ پتھر ہی اس راہ میں ہاتھ سے نکل جائیں۔مگر آپ نے توجہ نہ فرمائی اور اس عرصہ میں قریباً پانصد روپیہ کا اور بار اس مکان پر پڑ کر) رقم قرض بجائے ۲۷۰۰ ( ستائیس صد ) کے ۳۲۰۰ ( بتیس سو ) ہو چکی ہے۔میں نہیں جانتا یہ مشت خاک کہاں پھینکی جائے گی۔موت کے بعد مردہ بدست زندگان۔جہاں چاہیں پھینکیں۔مجھے تو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے احکام کا احترام تھا کہ وصیت لکھ کر پیش کی اور چاہتا ہوں کہ اس عہد کی ذیل میں کچھ تو ہاتھ سے نکل جائے۔لہذا بہتر