اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 383 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 383

٣٨٣ ہو کہ جناب خاص توجہ فرما کر میری درخواست پر کوئی کارروائی فرمائیں۔“ آپ نے ستمبر ۱۹۳۶ء میں دفتر کو تحریر کیا کہ مکان پر جو بارسات آٹھ سال سے ہے اس میں مزید ڈیڑھ ہزار روپے کا اضافہ ہوا ہے۔میری کوئی معین آمد نہیں۔جب سیدنا حضرت خلیفہ امسیح الثانی کوئی کام دے کر مقرر فرماتے ہیں تو کچھ آمد ہو جاتی ہے جس کا عشر میں باقاعدہ ساتھ ساتھ ادا کرتا رہا۔مجھے ۱۹۳۳ء تا ۱۹۳۶ء جو کام ملا وہ یوں ہے: -1 ۱ - ۱۹۳۳ء میں چھ ماہ اراضیات سندھ میں ۲ - ۱۹۳۴ء میں سات ماہ ۳ - ۱۹۳۵ء میں ایک سو بیس دنوں میں سے پچاس دنوں کا حساب مجھے ملا ہے۔۱۹۳۶ء میں اٹھاون دن کام پر رہا۔اور ایک دن مطبع کے کام کے لئے گورداسپور گیا۔اور بھی -✓ شاید ایک دو چھوٹی موٹی رقوم ملی تھیں جن کا عشر ادا کیا جا چکا ہے۔ان چار سالوں میں قریباً گیارہ سو روپیہ آمد ہوئی۔جس میں حصہ آمد اور دیگر چندوں کے علاوہ تخمینا چار صد روپیه چندہ تحریک جدید دیا۔باقی ماندہ رقم ہم میاں بیوی اور تین زیر تعلیم بچوں کے گزارہ کیلئے بالکل نا کافی ہونے کی وجہ سے مکان پر بار بڑھتا رہا۔آپ نے فروری ۱۹۳۶ء میں دفتر کوتحریر کیا کہ مئی ۱۹۳۵ء سے میرا گذارہ مقرر کر کے چار ماہ کام لیا گیا لیکن ابھی تک مجھے کچھ نہیں ملا۔دراصل قرض دام پر گزر اوقات کر رہا ہوں۔سندھ سے بوجہ بیماری بلائے جانے کے بعد سے اب بالکل بیکار ہوں بلکہ قرض پر گذر کر رہا ہوں۔جس کا بوجھ میرے مکان پر پڑ کر بار بڑھتا جارہا ہے۔۹ - آپ نے مارچ ۱۹۳۷ء میں میر پور خاص (سندھ) سے بیس روپے تین ماہ کا حصہ آمد بھجوایا۔-1° اپریل میں آپ نے دفتر کو اطلاع دی کہ میں بیمار اور بیکار ہوں۔قرض دام پر گزارہ ہورہا ہے۔-۱ اپریل ۱۹۳۸ء میں بھی آپ نے دفتر کو اطلاع دی کہ بیکار ہونے کی وجہ سے میں قرض لے کر گزارہ کر رہا ہوں۔سال بھر کے چندہ کے طور پر تین روپے کی حقیر رقم قرض لے کر دے رہا ہوں۔پھر اگست میں بیماری کا ذکر کر کے ایک روپیہ چندہ آپ نے دیا۔۸ / ظهور ۱۳۱۹ هش ( مطابق ۱/۸ اگست ۱۹۴۰ء) کو آپ نے دفتر کو تحریر کیا کہ -11