اصحاب احمد (جلد 9) — Page 376
آپ نے یہ بھی سنایا کہ حضور اپنے خاندان کے افراد کے ساتھ سفر میں بھجواتے تھے۔محترمہ صاحبزادی امۃ القیوم صاحبہ کے جہیز کے لاہور سے خریدنے میں ہم دونوں میاں بیوی کو خدمت کا موقعہ دیا گیا تھا۔۲۷- روایات وغیرہ کے بارے حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی کے متعدد قلمی رجسٹرات حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنے پاس محفوظ کر لئے تھے کہ یہ بہت قیمتی ہیں۔ایک دفعہ محترم مولوی برکات احمد صاحب راجیکی درویش نے دو ایک رجسٹرات عاریتہ حاصل کردہ خاکسار مؤلف کے ذریعہ واپس بھجوائے تھے۔رجسٹر نمبر۳ میں حضرت مولانا نے رقم فرمایا ہے کہ حضرت سیّدہ امۃ الحفیظ بیگم صاحبہ کا اعلان نکاح میرے ذریعہ کرانے کے لئے حضور نے بھائی جی کو لاہور بھجوا کر مجھے بلوایا تھا۔(صفحہ ۲۱۲) مالی خدمات طویل عرصہ کی شدید مالی تنگی کے باوجود جس کا تفصیلی تذکرہ آپ کی وصیت کے سلسلہ میں آگے آتا ہے، آپ نے مالی خدمات سلسلہ میں اپنی طاقت و وسعت سے بڑھ کر حوصلہ دکھایا۔اور تنگی ترشی سے گذر اوقات میں آپ کی رفیقہ ء حیات کا بھر پور تعاون آپ کو حاصل تھا۔ارتداد ملکانہ کے جہاد میں آپ نے طویل عرصہ تک اپنے خرچ پر شرکت کی۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے سوانح میں ۲۳۸ يُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ۔اور باوجود تنگی کے مٹھی بھر جو یا کھجور میں جو انہیں میسر آتیں فی سبیل اللہ دے دینے کے نظارے دنیا نے دیکھے یہ اصحاب الصفہ ابتغاء لمرضاة الله ہر قسم کی مصائب جھیلتے ہوئے در یار پر دھونی جمائے بیٹھے تھے۔یہی نظارہ حضرت بھائی جی جیسے صحابہ کی زندگی میں نظر آتا ہے۔انما الاعمال بالنیات۔قربانی کا جذبہ ایک قلبی کیفیت ہے۔مال و منال کی مقدار سے اسے تو لانا پا نہیں جاسکتا۔اس موقعہ پر یہ بات بیان کی جانی مناسب معلوم ہوتی ہے۔قادیان سے ایک دوست حج کے لئے جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ان کی بھی مالی حالت اچھی نہیں۔بھائی جی اور آپ کی اہلیہ محترمہ کے قلوب میں یہ جذبہ موجزن ہوتا ہے کہ یہ دوست دیار محبوب کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ہم بھی کسی طرح اس کار ثواب میں شرکت کر کے اپنے