اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 357 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 357

۳۵۷ میں اذان دی جاتی ہے۔ایک طرف نبوۃ باطلہ کے پیروؤں کا اعتقاد دیکھئے کہ وہ اپنے ”مقدس مقام کی حفاظت کیلئے اب تک ڈٹے ہوئے ہیں۔اور اپنی مسجدوں کی آبرو کو بچائے رکھا ہے۔لیکن ذرا ان سے بھی پوچھئے جو سینکڑوں اہل اللہ کے مقبروں کی آمدنی ڈکارتے رہے اور اب دارالکفر کی بجائے دارالاسلام میں عرس منا کر ضعیف الاعتقاد مریدوں کی جیبیں ٹٹول رہے ہیں۔“ پھر انقلاب“ میں شائع شدہ مکتوب درج کیا ہے جس میں بیان ہوا ہے کہ پہلے درویشوں کو موت کے گھاٹ اتار دئے جانے کا خطرہ ہر وقت لاحق رہتا تھا۔اذان کی آواز سن کر بھی اغوا شدہ مسلم عورتیں ہمارے حلقہ میں آجاتی ہیں۔ایسی عورتوں کو برآمد کر کے اور دیگر مسلمانوں کو جو اپنا مذہب تبدیل کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ہم پاکستان بھجوا دیتے ہیں۔پھر یہ احراری اخبار لکھتا ہے: کیا اس خط کے بعد مشرقی پنجاب کے سجادہ نشین اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ ان کے دل میں بھی اسلام ہے۔اس مسلمان سے سو بار ہے کافر اچھا جس مسلمان کے پیش نظر اسلام نہ ہو ۲۱۲ -۲- سردار دیوان سنگھ صاحب مفتون نے اپنے اخبار ”ریاست“ دہلی کے دسمبر ۱۹۵۷ء کے شمارہ میں لکھا کہ یہ واقعہ انتہائی دلچسپ ہے کہ جب مشرقی پنجاب میں خونریزی کا بازار گرم تھا۔مسلمانوں کا مسلمان ہونا ہی نا قابل تلافی جرم تھا۔مشرقی پنجاب پر کسی مقام پر بھی کوئی مسلمان باقی نہ رہا تو قادیان میں چند درویش صفت احمدی تھے جنہوں نے اپنے مقدس مذہبی مقامات کو چھوڑنے سے انکار کر دیا۔اور۔۔۔نگ انسانیت مظالم برداشت کئے اور جن کو بلا خوف تردید مرد مجاہد قرار دیا جاسکتا ہے۔اور جن پر آئندہ کی تاریخ فخر کرے گی۔ان لوگوں کو انسان نہیں فرشتہ قرار دیا جانا چاہئے جو اپنی جان کو تھیلی پر رکھ کر اپنے شعار پر قائم رہیں اور موت کی پرواہ نہ کریں۔اب بھی قادیان کے درویشوں کے اسوہ حسنہ کا خیال آتا ہے تو عزت و احترام کے جذبات کے ساتھ گردن جھک جاتی ہے۔اور ہمارا ایمان ہے کہ یہ ایسی شخصیتیں ہیں جن کو آسمان سے نازل ہونے والے فرشتے قرار دینا چاہئے۔6 ۳- رسالہ چٹان لاہور نے ۱۹۶۱ء میں قادیان اور سید ابو الاعلیٰ مودودی کے پٹھان کوٹ ضلع