اصحاب احمد (جلد 9) — Page 347
۳۴۷ اس کے بعد مصری وغیرہ فتنے رونما ہوئے۔۱۹۳۴ء میں احرار نے برطانوی گورنر پنجاب اور پنجاب کی وزارت کی پشت پناہی سے مرکز جماعت اور پنجاب کی احمدی جماعتوں کو متزلزل کرنا چاہا لیکن ناکام ہوئے۔تقسیم برصغیر کے وقت ۱۹۴۷ء میں حضور انور اور خصوصاً پنجاب کی تمام احمد یہ جماعتوں کو مجبوری حالات پاکستان منتقل ہونا پڑا۔حضور نے نہایت محنت کے ساتھ طیور ابرا ہیمی کو پھر ربوہ میں ایک نیا مرکز قائم کر کے مجتمع کیا اور سارا نظام اس بے آب و گیاہ مقام پر مستحکم کیا۔دشمنان احمدیت کو جماعت کا شیرازہ یکجا ہونا ایک آنکھ نہ بھایا اور احرار و اسلامی گروہوں نے ۱۹۵۳ء میں قتل و غارت کرائی اس میں مغربی پنجاب کی حکومت بھی پوری طرح شریک تھی۔حضور کی اولوا العزمی نے نہایت پامردی سے اس بھاری فتنہ کا مقابلہ کیا۔۱۹۵۴ء میں حضور پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ان ناموافق حالات میں بھی حضور نے دنیا بھر میں تبلیغی مساعی جاری رکھیں اور حضور ۱۹۵۵ء میں جب جماعتی مشورہ سے علاج کے لئے یورپ تشریف لے گئے تو آغاز سفر سے ہی اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی صحت سے نوازا اور انگلستان میں حضور نے دنیا بھر اور خصوصاً یورپ، امریکہ وغیرہ میں تبلیغی سرگرمیوں کو تیز تر کرنے کے لئے کئی روز جناب چودھری محمد ظفر اللہ خاں صاحب اور مبلغین کی معیت میں پروگرام طے کئے اور ان پر عمل شروع کر دیا۔حضور نے مشرقی و مغربی افریقہ کی طرف بھی خاص توجہ مبذول فرمائی۔رابطہ عالم اسلامی کے جماعت احمدیہ کے خلاف فیصلوں کی تنفیذ سعودی عرب کے شاہ فیصل کے ۱۹۷۴ء میں پاکستان آنے پر پاکستان میں شروع کرائی گئی۔اور حکومت کی ملی بھگت سے انہی دونوں گروہوں اور علماء نے قتل وغارت شروع کرائی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے بہ تائید الہی نہایت دانشمندی اور پامردی سے مقابلہ کیا اور جماعت میں صبر کی روح پھونک دی اور مطابق بیان حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (خلیفہ رابع ) لوگ لٹ پٹ کر روتے آتے تھے اور حضور سے ملاقات کر کے نیا جوش و ولولہ لے کر ہنستے ہوئے نکلتے تھے۔حضور نے مغربی افریقہ کے ممالک کے لئے نصرت جہاں سکیم جاری کر کے شفا خانے ، مدارس اور کالج جاری فرمائے۔فضل عمر فاؤنڈیشن قائم فرمائی۔لنڈن مشن اور دیگر مشنوں کو تقویت دی۔قرآن مجید کی اشاعت کا غیر معمولی کام کیا۔قریباً ساڑھے پانصد سال سپین سے اسلامی سلطنت کے مٹ جانے پر گذر چکے تھے کہ حضور نے وہاں اولین مسجد احمد یہ کا سنگ بنیاد رکھا۔