اصحاب احمد (جلد 9) — Page 348
۳۴۸ ایک اہم مسئلہ میں حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے دائگی طور پر مسیحیت کو شکست دی۔۱۹۷۵ء میں آپ نے لندن میں حضرت مسیح کی مصلوبیت سے نجات کے بارے ایک کانفرنس منعقد فرمائی۔دوران اجلاس ایک مسیحی تنظیم نے اس بارے میں مباحثہ کی دعوت دی جس کو حضور نے قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ جس ملک میں اور جب چاہیں ہم تیار ہیں۔بار بار توجہ دلانے پر بھی یہ تنظیم اور دیگر مسیحی فرقے اب تک مہر بلب ہیں۔ضیاء والا فتنہ خلافت رابعہ میں جاری ہوا۔اپریل ۱۹۸۴ء میں ایک آرڈی نینس جاری کر کے مساجد میں اذان۔نماز میں اور مساجد کی تعمیر اور احمدیوں کو اپنے تئیں مسلمان کہلا نا ممنوع قرار دیا۔بعد میں معلوم ہوا کہ ضیاء کے عزائم تھے کہ حضور کو گرفتار کر کے جیل میں موت سے ہمکنار کر دیا جائے اور پھر خلافت کا انتخاب نہ ہونے دیا جائے۔اس طرح جماعت احمدیہ تتر بتر ہو جائے گی۔یہ تائید الہی حضور لنڈن تشریف لے گئے۔حضور نے ۱۹۸۹ء کی لنڈن کا نفرنس میں بیان فرمایا کہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک گہری سازش کے نتیجہ میں ۱۹۸۴ء میں میرا بیرون پاکستان آنا ایک مجبوری تھی۔لیکن اس میں اللہ تعالیٰ کو یہ مقصود تھا کہ پاکستان اور دیگر ملوث طاقتوں کو یہ بتا دے کہ تم جتنا چاہوز ور لگاؤ۔جماعت احمدیہ کی ترقی کی راہیں روکنے کی بجائے تمہارا ہر قدم تمہاری تدابیر کو الٹا دے گا۔اور ہر وہ نتیجہ نکلے گا جو تمہارے دل کو اور زیادہ جہنم کی آگ میں مبتلا کر دے گا۔حضور کا اس وقت تک کا دور خلافت فتح و کامرانیوں سے بھر پور ہے۔جماعت احمدیہ پاکستان صبر آزما گھڑیوں میں صبر واستقامت کی تصویر ہے۔حضور نے اس وقت تک یورپ، آئر لینڈ ، پرتگال ،مشرقی و مغربی افریقہ، ماریشس ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، پنجی ، جاپان، کینڈا ،امریکہ کے دورے فرمائے۔۱۹۸۲ء میں مسجد سپین اور ۱۹۸۹ء میں مسجد آسٹریلیا اور مسجد گوئٹے مالا ( وسطی امریکہ ) کے افتتاح حضور نے فرمائے۔گوئٹے مالا میں بوقت افتتاح کوئی احمدی نہیں تھا۔لیکن اسی وقت وہاں کے بعض معززین نے یہ اظہار کیا کہ وہاں بہت جلد عظیم الشان جماعت قائم ہو جائے گی۔جلد بعد یہ اطلاع ملی ہے کہ وہاں کے لوگ احمدیت قبول کرنے لگے ہیں۔پاکستان میں اعلان کئے گئے تھے کہ ہم تمام دنیا میں احمدیت کا تعاقب کریں گے۔اور اس کو نیست و نابود کر دیں گے۔مغربی افریقہ کے ایک اعلیٰ رہنما نے وہاں صد سالہ جشن تشکر کے موقعہ پر اپنی تقریر میں کیا ہی مبنی بر حقیقت بات کہی کہ جماعت احمد یہ تمام دنیا میں اس حد تک آگے بڑھ چکی ہے کہ دنیا کی کوئی