اصحاب احمد (جلد 9) — Page 327
۳۲۷ حضرت بھائی جی کی ڈائریاں ( از مؤلف )۔الفضل جلد ۱۲ نمبر ۱۹ تا۴۲ (۱۹ راگست) کے شمارہ میں آپ کی ڈائری درج کرتے ہوئے مکرم ایڈیٹر صاحب نے تحریر کیا ہے کہ بھائی جی نے باوجود مصروفیت کے نہایت تفصیل سے حالات بھیجے ہیں اور بہت سی ایسی باتیں بیان کی ہیں جن کا ذکر کسی اور رپورٹ میں نہیں۔اس نمبر میں حضور کا نا تمام منظوم کلام حضور سے سن کر بھجوایا۔یہ مشہور نظم ہے مسلمانوں کی حالت زار کے بارے میں جس کا پہلا شعر یہ ہے۔۔صید و شکار غم ہے تو مسلم خستہ جان کیوں اٹھ گئی سب جہان سے تیرے لئے امان کیوں الفضل بابت ۲۳ / ستمبر ۱۹۲۴ء میں از مدینتہ اسی تحریر ہوا ہے حضرت مولوی عبد المغنی خاں صاحب نے حضرت بھائی جی کی ڈائری دو دن مسجد اقصیٰ میں سنائی۔- متعدد پیغامات وخطابات۔کرنل ڈگلس ( پیلاطوس ثانی ) حضرت مولوی نعمت اللہ صاحب کی سنگساری پر احتجاج حضور کی بعض دیگر مصروفیات کا مختصر ذکر کرنا مناسب ہے تا کہ اس سفر کی اہمیت اور اس کے مقاصد کے پورا ہونے کی داغ بیل ڈالے جانے سے آگا ہی ہو۔۱- حضرت مولوی عبدالرحیم صاحب نیر نے نمائندگان پریس کو ایٹ ہوم پر بلانے کا انتظام کیا۔جس میں مذاہب کانفرنس کے انتظامیہ کے بعض ممبر شریک ہوئے۔اہل انگلستان کے نام حضور نے ایک پیغام دیا جس کا ترجمہ فی البدیہہ جناب چودھری ظفر اللہ خاں صاحب نے سنایا۔اس میں خاص طور پر اس امر کی طرف حضور نے توجہ دلائی کہ مشرق اور مغرب ایک دوسرے سے دور جارہے ہیں۔انہیں ایک دوسرے کے قریب لانا چاہئے۔پانی کو مفید طور پر استعمال کرنے سے وہ لاکھوں ایکڑ زمین کو سیراب کرتا ہے۔ورنہ وہ ہزاروں گاؤں اور سینکڑوں افراد کو تباہ کر دیتا ہے۔-۲ برائن کا قصبہ دوصدیوں سے شاہی خاندان کی تفریح گاہ ہے۔شاہی ایوان ملکہ وکٹوریہ نے وہاں کے باشندگان کو دے دیا تھا۔جنگ عظیم اول میں ہندوستانی سپاہیوں کے ہسپتال کے طور پر کام آیا۔ان میں احمدی بھی تھے۔وہاں کے لوگوں نے ہندوستانی زخمیوں کے علاج و آرام کے لئے اپنی آسائش و آرام کو قربان کیا۔