اصحاب احمد (جلد 9) — Page 324
۳۲۴ ۵- سفر بٹالہ تا بمبئی بٹالہ سے بمبئی تک بذریعہ ٹرین سفر ہوا۔راستہ کے ریلوے اسٹیشنوں پر دبلی تک ان مقامات کے علاوہ ارد گرد کے مقامات کے قریبا سات ہزار احباب نے حضور سے ملاقاتیں کیں۔بمبئی پہنچنے تک دو روز حضور کی ہدایت کے مطابق رفقاء باہم انگریزی اور عربی میں گفتگو کرتے تھے۔عدن سے روانگی پر پھر یہی۔۱۷۲ ہدایت تھی۔-۶- بمبئی سے روانگی کا منظر بمبئی سے ۱۵ جولائی کو بحری جہاز سے روانگی ہوئی۔الوداع کہنے کے لئے جماعت بھاری تعداد میں موجود تھی۔حضور نے لمبی دعا کی۔آپ کی شفقت کا یہ نظارہ دیکھنے میں آیا کہ جہاز کا جو حصہ کنارہ پر موجود احباب کے نزدیک ہوتا حضور اس طرف دوڑ کر جاتے اور پھر دعا شروع کروا دیتے۔حتی کہ احباب نظروں سے اوجھل ہو گئے۔حضور دوران سفر میں رفقاء کو دعاؤں کی تاکید فرماتے تھے۔جہازی بیماری (Sea Sickness) سے جہازی عملہ اور سارا قافلہ بیمار ہو گیا۔خود بیمار ہونے کے با وجود حضور فرداً فرداً اپنے رفقاء کی عیادت کرتے اور ان کی دلجوئی کرتے اور نظمیں سنواتے۔حضرت عرفانی صاحب لکھتے ہیں کہ سوائے چوہدری فتح ( محمد ) صاحب اور بھائی عبدالرحمن صاحب کے سب (اس مرض کا) شکار ہوئے غرض ہم تو بے دست و پا پڑے رہے۔اور یہاں تک کہ اپنے مقام سے اٹھ کر پیشاب کے لئے بھی نہ جاسکتے تھے۔ان ایام علالت و مجاہدہ جہازی میں بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی، چوہدری فتح محمد صاحب، ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب اور چوہدری علی محمد صاحب کی ہمدردی اور خدمت گذاری ایک گہرا نقش قلب پر چھوڑ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر دے۔انہوں نے اپنے آرام کو قربان کر کے ہم بیماروں کو آرام پہنچایا۔“ وفد کی خبر گیری اور تیماداری کا ذکر کرتے ہوئے حضور نے فرمایا کہ ان دنوں اس سفر کے دوران میں بھائی جی اور چوہدری فتح محمد خاں صاحب نے شیروں کا کام کیا ہے۔جزاهم الله احسن الجزاء - ۱۷۳