اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 314 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 314

۳۱۴ ۱۵۸ ہلاکت کا باعث ہوتا ہے۔احد کا حال سب کو معلوم ہے۔لباس اور خوراک میں جہاں تک ممکن ہو سادگی ہو۔اعلیٰ نمونہ دکھاؤ۔باہم محبت اور پیار سے رہوتا دیکھنے والوں کو معلوم ہو کہ تم ایک دوسرے پر فدا ہو۔سخت کلامی مقابلہ بھی نہ کرو۔ملکا نہ لوگ تمہاری باتیں سنیں یا نہ سنیں۔اور ہزاروں لوگ سلسلہ میں داخل ہوں گے۔جو لوگ یہاں ہیں ان کے دل میں بھی جوش ہونا چاہیے کہ وہ بھی خدمت دین کے لئے جائیں۔جانے والوں کے لئے بھی دعا کرو۔اسلام پر کیسا وقت ہے اس سے ایسی محبت کرو جو ماں سے بڑھ کر ہوا اور خدمت اسلام کیلئے تیار ہو جاؤ۔ے۔حضرت بھائی جی اور دیگر سب نے نہایت جانفشانی اور انتھک محنت سے حالات معلوم گئے۔حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال امیر المجاہدین کا صدر دفتر آگرہ میں قائم ہوا۔ان سب مجاہدین نے تیز ، چلچلاتی دھوپ میں کئی کئی میل روزانہ پیدل سفر کیا۔کھانا تو الگ رہا بعض اوقات ان کو پانی بھی نہ مل سکا۔یا بچا کھچا باسی کھانا کھاتے یا بھونے ہوئے چنے۔موقعہ ملتا تو آٹے میں نمک ڈال کر روٹی پکا لیتے۔جہاں موقع ملتا رات گزار لیتے۔دودھ کی تواضع ملکانوں سے قبول نہ کی۔بعض رؤساء نے مبلغین کے بستر اور سامان کے لئے مزدور دینا چاہئے۔لیکن یہ جانباز مجاہدا پنا سامان اٹھائے پیدل سفر کرتے رہے۔ایک گاؤں میں کام ختم ہونے پر اس بات کی پرواہ کئے بغیر کہ کیا وقت ہے یا دوسرا گاؤں کتنے فاصلے پر ہے۔فوراً آگے روانہ ہو جاتے۔انہوں نے بعض اوقات اندھیری راتوں میں ایسے تنگ اور پرخطر راستوں سے سفر کیا جہاں جنگلی سور اور بھڑیئے بکثرت پائے جاتے تھے۔یہ مجاہدین ان لوگوں پر پانی تک کا بھی بوجھ نہ ڈالتے۔اور یہ کہتے کہ ہمارے آدمی آپ لوگوں کو دین سکھانے کے لئے آئیں گے جو آپ سے کچھ نہ لیں گے بلکہ اپنا خرچ بھی آپ برداشت کریں گے۔یہ لوگ چونکہ اپنے مولویوں کی شکم پروریوں کی وجہ سے بہت بدظن ہو چکے تھے اس لئے ان کے نزدیک یہ بات بہت بڑی حیرت انگیز تھی کہ ایسے خدام دین بھی موجود ہیں جو رضا کارانہ طور پر تبلیغ اسلام کا فریضہ ادا کرنے کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں۔ان تمام مجاہدین نے چند دن کے اندر پانچ اضلاع اور ایک ریاست کا مکمل جائزہ پیش کیا۔حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب نے نہ صرف تین دن کے اندراندر ضلع ابطہ کے اکثر دیہات کا دورہ مکمل کرلیا۔بلکہ ہر گاؤں کے متعلق ایسے تفصیلی کوائف بھی مہیا کئے گویا مدت سے ان دیہات میں آپ کی آمد ورفت تھی۔