اصحاب احمد (جلد 9) — Page 313
۳۱۳ وہ دوست جو اس وقت محض رضائے الہی اور اعلائے کلمہء اسلام کے مبارک مقصد سے۔خدا پر توکل کر کے جار ہے ہیں وہ بھی اور ان کو الوداع کہنے والے سورہ فاتحہ کے مضمون پر توجہ کریں جوا بھی میں نے پڑھی ہے۔باوجود جماعت کی ناتوانی کے اور تعداد کی نہایت کمی کے آٹھ کروڑ مسلمانوں میں وہ جوش نہیں۔مسلم اخبارات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی حالت مایوسانہ ہے۔اور مخالفین کی آواز فاتحانہ ہے۔ان حالات میں سورۃ فاتحہ ہماری ہمت بندھاتی ہے۔جس زمانہ میں آغاز اسلام میں مسلمان مردوں اور عورتوں پر انتہائی مظالم ڈھائے جاتے تھے اور پھر حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا کہ الحمد للہ پڑھو کہ مجھے اللہ تعالیٰ میں خوبیاں ہی خوبیاں نظر آتی ہیں۔میرے لئے تو خوشیاں ہی خوشیاں ہیں۔کوئی رنج اور دکھ نہیں۔کوئی وجہ نہیں کہ میں الحمد لله رب الـعـلـمـیـن نہ کہوں۔چنانچہ بالاخر یہ ثابت ہوا کون راستی پر تھا۔کس کو طاقت حاصل ہوئی۔مخالفت ہیں سب اڑ گئیں۔اور سکھ ، مسلمانوں کے لئے ہی رہ گیا اور روحانی راحت صرف مسلمانوں کو حاصل تھی۔مسلمان اس وقت ہمارے مخالفوں کے ساتھ ہیں۔ابتدائے اسلام میں جیسے مسلمان قلیل تھے تمہاری بھی یہی حالت ہے۔وہ بزدل نہ تھے۔مومن بزدل نہیں ہوتا۔اس کے دل میں ایمان اور خدائی مدد پر بھروسہ ہوتا ہے۔ایک دفعہ مخالفین کے مقابلہ میں کمک کی ضرورت تھی۔مطالبہ پر حضرت عمرؓ نے ایک سپاہی بھجوایا اور لکھا کہ یہ ایک ہزار کے برابر ہے۔کیونکہ بھجوانے کے لئے اور سپاہی میسر نہ تھے۔مسلمانوں نے نعرہ ہائے تکبیر بلند کئے اور بڑی خوشی سے استقبال کیا اور یقین کیا کہ اب دشمن مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکے گا۔ان کی نظر اپنی تھوڑی تعداد پر نہ تھی بلکہ خدا کی طاقت پر تھی۔انکسار اختیار کرو۔اپنی تعداد کونہ دیکھو۔خدا غیور ہے تم جو اس کے لئے نکلے ہو تمہیں تباہ نہ ہونے دے گا۔وہ ہر وادی میں، ہر ایک شہر اور جنگل میں اور میدان میں تمہارے ساتھ ہوگا۔اور جس کے ساتھ خدا ہو اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔جو ہدایات تحریر کر کے چوہدری فتح محمد صاحب کو میں نے دے دی ہیں۔ان کو پڑھو اور ان پر عمل کرو تو دیکھو گے کہ نصرت الہی تمہیں کس طرح کامیاب کرتی ہے۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی دعا ہر بستی میں داخل ہوتے وقت پڑھو۔ہمیشہ نرمی اور محبت سے کام کرو۔اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ۔خدا کا حق عبادت ہے اس میں سستی کو پاس نہ آنے دو۔بندوں کے حقوق ادا کرو۔دعاؤں پر بہت زور دو۔افسر کی اطاعت کرو۔اطاعت سے ذرا منہ پھیرنا