اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 312 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 312

۳۱۲ فرمایا ستر درخواستیں وہاں کام کرنے کے لئے آئی ہیں ان میں سے جو آج ہی مجھے ظہر سے پہلے پہلے بتادیں میں انتخاب کر کے ظہر کے بعد انہیں بھجوا دوں۔پہلے کام کرنے والوں کو زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑے گا۔لیکن زیادہ ثواب کا موقعہ بھی یہی ہے۔چودھری صاحب کے ساتھ جانے کے لئے میاں (صوفی) محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی۔میاں (صوفی ) عبد القدیر صاحب بی اے۔( شیخ ) یوسف علی صاحب بی اے اور لنگر والے چودھری بدرالدین صاحب تیار ہو جائیں۔ان چھ مذکورہ بالا احباب کے علاوہ چودہ احباب ظہر تک تیار ہو گئے۔(ان میں سے ایک نے یوپی سے شامل ہونا تھا۔اور ایک کو خود حضور نے روک لیا تھا) اس وفد میں حضرت شیخ عبدالرحمن صاحب نو مسلم قادیانی بھی تھے۔گویا آپ کو السابقون الاولون میں شامل ہونے کی توفیق عطا ہوئی۔اس وفد میں پانچ گریجویٹ گئے۔* نماز ظہر کے بعد ایک بڑے مجمع کے ساتھ حضور ان اصحاب کو روانہ کرنے کیلئے دو ڈیڑھ میل تک قصبہ سے باہر وہاں تک تشریف لے گئے جہاں قادیان کی سڑک بٹالہ کی سڑک سے ملتی ہے۔وہاں جو کنواں ہے وہاں ان اصحاب کو سامنے بٹھا کر ایک ولولہ انگیز تقریر فرمائی اور پھر دعا کی اور سب کے ساتھ مصافحہ کر کے رخصت فرمایا۔اس موقعہ کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ حضرت اُم المؤمنین چند مستورات کے ہمراہ پا پیادہ وہاں تشریف لائیں اور دعا کی اور اپنے فرزندوں کو اپنی آنکھوں سے اعلائے کلمۃ اللہ کے لئے روانہ ہوتے ملاحظہ فرمایا۔روانگی کے بعد حضرت خلیفہ ثانی تھوڑی دیر تک سیکوں کی طرف دیکھتے اور دل میں دعائیں کرتے رہے۔واپسی پر ارشاد فرمایا کہ دوست ایک ترتیب سے چلیں۔سو بچوں سے بوڑھوں تک سب نے پہلے دس دس کی ، پھر پانچ پانچ کی اور پھر چار چار کی قطار میں قصبہ تک مارچ کیا۔۵- چند دن بعد ہی بذریعہ تار مطالبہ آیا کہ فوراً ہمیں مبلغ اور بھجوائے جائیں۔چنانچہ مسجد (مبارک) میں ہی ساٹھ ستر احباب نے اپنے نام پیش کر دیئے۔حضور نے ان میں سے بائیس کا انتخاب کر کے انہیں اسی روز بعد عصر روانہ کر دیا۔۱۵۷ ۶ - اولین وفد کے سامنے حضور نے اپنی تقریر میں بتایا کہ ۱۵۶ ان پانچ گریجوئیٹ مجاہدین میں سے صرف حضرت صوفی محمد ابراہیم صاحب بی ایس سی سابق ہیڈ ماسٹر تعلیم الاسلام ہائی سکول ربوہ زندہ تھے جو لنڈن کا نفرنس ۱۹۹۰ء پر پہنچے اور وہاں وفات پائی۔بہشتی مقبرہ ربوہ مدفن ہوئے۔