اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 305 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 305

۳۰۵ نوافل کے بعد حضور نے درود شریف کا فلسفہ بیان کیا۔بعد نماز عصر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب نے حضور کی موجودگی میں جناب افسر صاحب جلسہ سالانہ کی اپیل سنائی جو انہوں نے حضور کے قافلہ کے نام بھجوائی تھی۔حاضرین نے اس میں حصہ لیا اور حضور نے ۱۴۲ ساڑھے بارہ من گندم کی قیمت میں ایک سو روپیہ کا مزید اضافہ کیا۔پہلے یہ وعدہ پانصد روپے کا تھا۔عید میں قریباً سوا تین صد احباب نے شمولیت کی۔دعا کے بعد حضور نے ۲۶ / اگست کو جلسہ ء عام ہونے کا اعلان فرمایا۔۔حضور کے ارشاد پر آسنور میں احمدیان کشمیر کا جلسہ دوروز ہوا۔تعداد حاضری پانصد تھی۔یہ جلسہ جناب خواجہ عبدالرحمن صاحب ڈار کے سیبوں کے باغ میں ہوا جو ایک مرتفع۔نہایت ہوادار اور پر فضاء مقام ہے۔حضور کی تقاریر کے علاوہ صفائی قلب کے بارے اور غیر مبائعین کے بارے حضرت حافظ روشن علی صاحب کی تقاریر ہوئیں۔تلاوت ، اجلاسات میں محترم حافظ سید محمود اللہ شاہ صاحب حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت حافظ روشن علی صاحب اور محترم صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاب نے کی۔اور نظمیں حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب - محترم مرزا گل محمد صاحب - محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب محترم خواجہ غلام احمد صاحب ابن محترم خواجہ عبدالرحمن صاحب ڈار نے سنائیں۔مرقوم ہے کہ اس جگہ احمدیان کشمیر کے جوش و اخلاص کا ذکر بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔اکثر احباب بہت دور دور سے آئے ہوئے تھے اور بعض تو کئی کئی دن کی مسافت طے کر کے آئے تھے۔پھر علاقہ آسنور کے احمدیوں کی ہمت بھی قابل تعریف ہے۔جنہوں نے جلسہ کے انتظام اور مہمانوں کی خدمت میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔اللہ تعالیٰ ان سب کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ے۔حضور آسنور سے گنگ وٹن گئے۔دوسرے روز کوثر ناگ گئے۔یہ وسیع جھیل سطح سمندر سے تیرہ ہزار فٹ بلندی پر ہے۔واپسی کے وقت حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت مرزا شریف احمد ۱۴۳ 66 صاحب بیمار ہو گئے۔حضور ابھی ڈیرہ پر نہیں پہنچے تھے کہ آسنور سے ایک سوار بھائی عبدالرحمن صاحب کا خط حضور کے نام لے کر آیا کہ محترمہ والدہ صاحبہ میاں ناصر احمد صاحب کو پھر زیادہ بخار ہو گیا ہے۔اس لئے جتنی جلدی ممکن