اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 300 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 300

۳۰۰ نے پندرہ منٹ تک دعا کی۔بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی چھتری لے کر پیچھے پیچھے گئے۔لیکن مبادا دعا میں مخل ہوں دور کھڑے آمین آمین کہتے رہے۔حضور دعا سے فارغ ہوئے تو بھائی جی نے دوڑ کر آپ پر چھتری کا سایہ کر دیا۔محترم بھائی جی نے نصف شب کو یہ کوائف تحریر کئے اور حضور کا ایک تازہ رویا بھی۔) ۱۳۲ بھائی جی نے حضور کے ایک حرم محترم کی خدمت میں حضور کے حالات سے اطلاع دی۔اس میں بتایا کہ دھر مسالہ میں کھلی ہوا ، صفائی اور پھل میسر نہیں۔کانگڑہ میں جو زلزلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں آیا تھا اس میں کانگڑہ میں پچانوے فیصد اور دھر مسالہ میں نوے فیصد آبادی لقمہ اجل بنی تھی۔اس ہولناک عذاب کے تصور کا حضور کے دل پر گہرا اثر ہے۔ان وجوہات سے حضور کسی اور پہاڑی مقام پر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔چنانچہ حضور ڈلہوزی تشریف لے گئے۔۴۔قادیان سے ۶ ستمبر کو یہ روح افزا خوشخبری ڈلہوزی پہنچی کہ لندن کے علاقہ پٹنی میں تعمیر مسجد احمدیہ کے لئے ایک وسیع قطعہ زمین ایک معقول مکان سمیت خرید لیا گیا ہے۔اس کے سنتے ہی چہرے خوشی سے تمتما اٹھے اور دل مسرت سے اچھل پڑے اور سر سجدات شکر کیلئے خدا تعالیٰ کے حضور گر گئے۔بغرض علاج و عیادت ( حضور کے ماموں ) حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب تشریف لائے ہوئے تھے۔خوشی منانے کیلئے جلسہ کرنے کی تحریک ان کے دل میں پیدا ہوئی۔جسے حضور اور احباب نے پسند کیا اور سب نے چندہ لکھوایا۔تجویز ہوئی کہ یہ خوشی بلند سے بلند تر مقام پر منائی جائے اور اچھے سے اچھا میدان اس کے لئے منتخب کیا جائے اور تمام احباب کچھ اشعار بھی کہیں۔ڈائن کنڈ بلند و بالا اور سرسبز مقام تجویز شدہ بھی حضور نے منظور فرمایا۔کئی دن بارش نہ ہونے سے ڈلہوزی میں گرمی ہو گئی تھی۔9 ستمبر کو روانگی کے روز صبح خوب بارش برسی۔اسی وجہ سے ساڑھے چار گھنٹے کی تاخیر سے ڈیڑھ بجے بعد دو پہر روانہ ہو کر قافلہ آٹھ میل کا فاصلہ طے کر کے تین ہزار فٹ بلندی پر واقع ڈائن کنڈ پہنچا۔نماز ظہر اور کھانے سے فارغ ہو کر جلسہ شروع ہوا۔نہایت ہی سرسبز گھاس کے ملی فرش پر پندرہ افراد کا ایک خوبصورت گول حلقہ بنایا گیا۔سب سے پہلے عبدالقادر صاحب مہتہ ابن بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی نے اپنی نظم بڑی جرات سے پڑھی۔نظم کیا اور مہتہ صاحب کی بساط کیا۔صرف ایک خوشی کا اظہار تھا اور تعمیل حکم۔سامعین مارے ہنسی کے لوٹے جاتے تھے۔اتنے ہنسے کہ ان کے پیٹ میں بل پڑ گئے۔مگر اس نے ہمت نہ ہاری۔حضور نے فرمایا کہ نظم کیا خاصا