اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 264 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 264

۲۶۴ سلا لیا کریں۔یا مولوی شیر علی صاحب بند و بست کر دیں کہ کوئی لڑکا آپ کے گھر میں سو رہا کرے۔مرزا غلام احمد مزید آپ نے بیان فرمایا: ” جب حضور کو وصال کی تیاری کا فرمان ملا۔اور رحلت کا یقین ہو گیا۔اس وقت بھی حضور نے ذرہ نوازی فرمائی اور نام لے کر یاد فرمایا۔اور حافظ حامد علی صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ذریعہ جو اس وقت پہرہ پر تھے ( رات کو مجھ نا کارہ غلام کو بازیابی کی عزت بخشی ( رات کو زیادہ تکلیف ہوگئی تھی ) رات بھر بلکہ اس وقت تک جب حضور کی روح مبارک رفیق اعلیٰ کے وصال کے لئے بے قرار ہو کر پرواز کر گئی مجھے خدمت قرب کا فخر عطا فرمایا ( اس عرصہ میں مجھے حضور کا جسم مبارک دبانے کا موقعہ ملا ) اور اس طرح اپنا بنا لینے کے بعد حضور نے مجھے نہ چھوڑا نہ جدا کیا۔میری بدقسمتی کہ درد دل اور خون جگر کھانے کو پیچھے رہ گیا۔اور مجھ سے حق رفاقت ادا نہ ہوسکا۔انالله وانا اليه راجعون“۔ایک مضمون میں آپ لکھتے ہیں : سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے بعد جب حضور کا جسد اطہر بٹالہ سے قادیان لایا جا رہا تھا تو اس خادم کی ڈیوٹی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے رتھ کے ساتھ تھی (جس میں خاندان حضرت مسیح موعود کی ایک دو اور خواتین بھی تھیں۔میں بطور پہرہ دار اور خادم رتھ کے ساتھ پیدل تھا) حضرت ممدوحہ اس وقت خاموشی کے ساتھ ذکر واذکار اور دعاؤں میں مشغول تھیں اور صبر و رضا کا کامل نمونہ پیش فرمارہی تھیں۔جب رتھ نہر کے پل پر سے گزر کر آگے بڑھی تو حضرت ممدوحہ نے ایک پُرسوز اور رقت آمیز آواز سے فرمایا۔بھائی جی! پچیس سال گذرے میری ڈولی اس سڑک پر سے گذری تھی۔آج میں ہیوگی کی حالت میں اس سڑک پر سے گذر رہی ہوں۔“ ( بدر بابت ۲۸ اپریل ۱۹۵۲ء۔صفحہ ۲ کالم ۶- خطوط وحدانی کے الفاظ حضرت بھائی جی سے استفسار کر کے زائد کردہ ہیں۔) حضرت بھائی جی بیان کرتے ہیں کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب کی خدمت میں ایک درخواست لکھی گئی تھی کہ ان کی بطور خلیفہ بیعت کرنے کو ہم تیار ہیں۔اس پر میں نے بھی دستخط کئے تھے۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جنازہ لاتے ہوئے ریل گاڑی میں میں نے حضرت میر محمد سعید صاحب حیدر آبادی کی نوٹ بک میں اس بارہ میں درخواست دیکھی جس پر