اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 263 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 263

۲۶۳ محترم مرزا محمد احسن بیگ صاحب سے میرا پانچ سال کا معاہدہ ہوا تھا۔اس کی رو سے میری یہ میعاد دسمبر ۱۹۰۸ء میں ختم ہوتی تھی۔اگر یہ حادثہ پیش نہ آتا تو نہ اس وقت مجھے قادیان واپس آنا نصیب ہوتا۔نہ حضور کے اس آخری سفر میں قرب اور خدمت کی توفیق رفیق ہوتی۔ہر بلا کیں قوم را حق داده اند زیر آں حج کرم پنهاده اند ☆ ۲۲- حضرت اقدس کا آخری سفر لا ہور اور وصال و تدفین بھائی جی کا بیان جس میں خطوط وحدانی کے الفاظ خاکسار مؤلف نے آپ سے استفسار کر کے درج کئے تھے ذیل میں درج ہے: حضرت اقدس جب آخری سفر پر لاہور تشریف لے جانے لگے تو مجھے غلام کو بھی از خود ہمرکابی کا شرف بخشا۔بعد میں میری اہلیہ گھر میں اکیلی تھیں ان کا خط آنے پر میں نے اجازت طلب کی تا ان کا انتظام کر آؤں لیکن حضور نے میرا جانا مناسب خیال نہ فرمایا۔اس طرح حضور کے ارشاد کی تعمیل سے مجھے ایک نہایت ہی قابل رشک موقعہ مل گیا۔“ بھائی جی نے اجازت کے لئے ذیل کا عریضہ لکھا تھا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده نصلى على رسوله الكريم آقائی مولائی فداک روحی اید کم اللہ تعالیٰ ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔حضور قادیان سے حضور کی خادمہ کا آج ہی خط آیا ہے کہ رات کے وقت ہمیں تنہائی کی وجہ سے خوف آتا ہے کیونکہ جس مکان میں رہتا ہوں وہ بالکل باہر ہے لہذا اگر حکم ہوا اور حضور اجازت دیں تو میں جا کر ان کو کسی دوسرے مکان میں تبدیل کر آؤں یا اگر حضور کے دولت سرائے میں کوئی کوٹھڑی خالی ہو تو وہاں چھوڑ آؤں جیسا حکم ہو تعمیل کی جاوے۔حضور کی دعاؤں کا محتاج خادم در عبدالرحمن قادیانی ۱۴ مئی ۱۹۰۸ء اس پر حضور نے رقم فرمایا: السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ۔ابھی جانا مناسب نہیں۔لکھ دیں کہ کسی شخص کو یعنی کسی عورت کو رات کو تفصیل حضرت بھائی جی سے معلوم کرنے کے علاوہ الحکم جلد ۴۱ نمبر ۱۸، ۱۹ بابت ۷۔۱۴ جون ۱۹۳۸ء ( صفحہ۱۹ کالم ہ۲) سے مکمل کیا گیا ہے۔