اصحاب احمد (جلد 9) — Page 262
۲۶۲ سوحضور کے ارشاد کی تعمیل میں اس دور دراز علاقہ میں میں پڑا رہا۔اس عرصہ میں مجھے صرف تین چار دفعہ قادیان آنے کا موقعہ میسر آیا۔چار سال بعد آخر دسمبر ۱۹۰۷ء میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسی تقریب پیدا کر دی جو مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کے قدموں میں لانے اور پھر ۲۷ رمئی ۱۹۰۸ ء تک حضور اقدس کی آخری خدمت بجالانے کا موجب ہوئی۔اس تقریب کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے شیر کے دو بچے پکڑ کر پال رکھے تھے جو چوپال میں پنجرے میں بند تھے۔ایک روز اطلاع ملی کہ چوپال میں ایک شیر آ گیا ہے۔یہ علاقہ غیر آباد جنگلات پر مشتمل تھا۔ایک بھیڑ کو جو قریب تھی وہ پکڑ کر لے گیا۔میں اور مرز اصاحب اس کے تعاقب میں گئے۔میں نے بندوق سے جو مرزا صاحب نے مجھے پکڑا دی تھی اس پر فائر کیا جس سے اس کا دایاں بازوٹوٹ گیا۔اس پر اس نے مجھ پر حملہ کر کے میری بائیں ٹانگ کو منہ میں پکڑ لیا۔اللہ تعالیٰ کا فضل ہوا کہ اس کا باز و نا کارہ ہو گیا تھا۔ورنہ وہ آتے ہی مجھے تھپڑ مارتا جس سے بچنا ناممکن تھا۔میرا پاؤں پکڑتے ہی ہمارے شکاری کتے آن پہنچے اور انہوں نے شیر پر جھپٹا مارا اور اسی دھینگا مشتی میں اس نے میری ٹانگ کو چھوڑ دیا۔اور کتوں کی طرف متوجہ ہو گیا۔یہ سانحہ اس قدر اچانک ہوا تھا کہ مرزا صاحب گھبرا گئے اور ان سے فائر نہ ہوسکا۔چونکہ اب بھی میں نے فوراً اُٹھ کر گولی داغی جو اس کے دماغ میں لگی اور وہ ہمیشہ کی نیند سو گیا۔میری ٹانگ شدید زخمی تھی۔مجھے چار پائی پر لے جانے لگے۔تو میں نے بہ اصرار اسی چار پائی پر شیر کی لاش بھی رکھوالی۔والدہ صاحبہ اس واقعہ کی خبر سن کر پہلے ہی حواس باختہ ہو چکی تھیں۔میرے ساتھ شیر کی لاش دیکھ کر ان کے اوسان اور بھی خطا ہو گئے۔لیکن میں نے ان کو تسلی دی کہ شیروں کے بچے ہی شیروں کا مقابلہ کرتے ہیں۔میری اہلیہ صاحبہ اپنے وطن ڈنگہ (ضلع گجرات) گئی ہوئی تھیں۔میرے برادر نسبتی احمد دین صاحب مجھے وہاں لے گئے۔دو تین ماہ کے علاج سے بفضلہ تعالیٰ میں صحت یاب ہو گیا۔اور میں قادیان واپس آ گیا۔اس دفعہ نہ مرزا محمد احسنبیگ صاحب نے مجھے روکا اور نہ یوں ہوا کہ انہوں نے مجھے روکنا چاہا ہوا اور حضرت اقدس علیہ السلام نے مجھے وہیں ٹھہرنے کا ارشاد فرمایا ہو۔میری واپسی کے بعد قریب کے عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے اور مجھے بھی ساتھ لے گئے۔اور اسی سفر میں حضرت اقدس کا وصال ہوا۔