اصحاب احمد (جلد 9) — Page 11
11 ثروت اور علم دوست بھی تھے اور آپ کے انہی لوگوں سے تعلقات محبت بھی تھے۔مگر ان کی دوستی اور محبت و وفا بھی صرف دوستی تک ہی محدود تھی۔روحانی بہبودی اور بھلائی کا کبھی کسی کو خیال تک بھی نہ آیا۔آپ کی روحانی تربیت گوانہوں نے نہ کی مگر ان لوگوں کے تعلقات کا اثر ضرور آپ پر ہوتا چلا گیا۔اور وہ بیج جو اللہ تعالیٰ نے ”رسوم ہند کے ذریعہ آپ کے دل میں خود اپنے ہاتھ سے گاڑا تھا اگ کر پودا بنتا اور صرف اسی کے فضل کی آبیاری سے سنچتا اور بڑھتا گیا۔رات کو سوتے وقت آپ اس بات کا خاص اہتمام کرتے تھے کہ پاؤں قبلہ کی طرف نہ ہوں اور اگر کبھی والدہ محترمہ چار پائی اسی طرح بچھا دیتیں تو آپ کوشش کر کے بجائے مشرق کے مغرب کو سر ہانہ بنا کر سویا کرتے۔بعض اوقات والدہ کے حکم سے مجبور ہو کر دوسرے رخ سوجاتے تو سوتے میں اٹھ کر غلبہ خیال کے باعث آپ پاؤں بجائے قبلہ کے مشرق کو کر لیا کرتے تھے۔اور والدہ صبح کو دیکھ کر خفا ہوتیں کہ یہ کیا عادت ہے۔تم سر ہانے کی بجائے پائینتی کی طرف سو جاتے ہو۔حضرت مسیح موعود کے متعلق کیا سنا !! آپ بیان کرتے ہیں کہ باوجود یکہ ۹۴-۱۸۹۳ء کے زمانہ میں سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا جابجا چر چا تھا۔مگر چونیاں کے مسلمان کچھ ایسی حالت جمود وسکوت میں تھے کہ کم از کم میرے کانوں تک اس زمانہ میں حضور پر نور کا ذکر نہ پہنچا۔البتہ ایک بات مجھے یاد ہے کہ جو میرے کان میں پڑی تھی جسے بعد میں قادیان پہنچ کر بلکہ اس سے پہلے سیالکوٹ میں سمجھا وہ یہ تھی کہ ایک لڑکے نے جو کسی تقریب پر لا ہور وغیرہ گیا تھا واپسی پر مجھ سے ذکر کیا کہ اس سفر میں ایک عجیب بات سننے میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ایک مسلمان مولوی نے جو بڑا عالم ہے ایک انگریز کی موت کی پیشگوئی کی اور وہ پوری ہوگئی۔“ اور میرے سوال پر بتایا کہ و شخص دور کہیں روس کی سرحد پر رہتا ہے۔گاؤں کا نام سنا تو تھا مگر یاد نہیں رہا۔“ کسوف و خسوف اور مہدی کے پالینے کے لئے دعائیں کرنا آپ بیان کرتے ہیں کہ ۱۸۹۴ء کے رمضان المبارک میں مہدی آخر الزمان کے ظہور کی مشہور