اصحاب احمد (جلد 9) — Page 242
۲۴۲ مقام واقعہ ہے نام اس کا مجھے معلوم نہیں۔موقعہ کے لحاظ سے یہ جگہ دیوانی مال کے تکیہ اور وڈالہ کے قریباً وسط میں واقع ہے۔ہم نے میاں محمد دین کی انتظار کی مگر وہ اٹھنے ہی میں نہ آئے۔مجبور ہوکر خود حاضر ہوئے اور عرض معروض کر کے اٹھایا جہاں وہ محض بہانہ بنائے بیٹھے تھے۔بہت سخت کرخت بولے اور ہم سب کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے۔گالی گلوچ اور سب وشتم کے علاوہ دھمکیوں کا بھی انبار لگا دیا۔مگر ہماری طرف سے نرمی ، حکمت ، منت سماجت اور خوشامد در آمد کا سلوک پا کر آخر نرم تو ہو گئے مگر لوٹنے کی بجائے آگے ہی بڑھنے پرضد اور اصرار رہا۔بہزا ر منت ولحاجت، پیار سے، دلاسہ سے نرمی سے گرمی سے کہہ سن کر مٹھی چاپی اور خدمت و حکمت سے واپسی پر رضامند کیا۔تو تکان کا عذر اور پیدل نہ چل سکنے کا بہانہ بنا کر بیٹھ رہا۔ٹالنے اور وقت گزارنے کی کوشش کرتا رہا۔اور اس دوران میں ہم نے محسوس کیا کہ اس کی آنکھیں بار بار بٹالہ کی طرف اٹھتی تھیں جیسے کسی کی انتظار ہو۔اس خطرہ کو بھانپ کر ہم نے اسے پیٹھ پر اٹھایا، کہیں پیدل چلایا۔ایک چادر کے کونے پکڑ کر اس کے لئے سایہ اور دھوپ سے بچاؤ کا انتظام کیا اور اس طرح بصد مشکل اس کو وڈالہ تک لے چلے۔پیچھے مڑ کر جو کسی نے دیکھا تو ایک یکہ آتا دکھائی دیا جس کو دیکھ کر بیم ورجا اور خوف امید یکجا جمع ہوگئیں۔خطرہ یہ تھا کہ بٹالہ مشن کے ساتھ اس کی ساز باز تھی مبادا وہی لوگ اس کی تلاش اور استقبال کو آتے ہوں۔کیونکہ اس کے بھاگ نکلنے کا طریق وضع اور ہئیت ترکیبی کسی منصو بہ وسازش کا پتہ بتا رہی تھیں۔اسی کشمکش میں وہ یکہ قریب ہوا اور خدا کے فضل سے ہماری امید خطرہ پر غالب ہوئی۔یکہ میں بمشکل ایک سواری کی گنجائش تھی۔میاں محمد دین کو اس میں بٹھایا مگر چونکہ وہ لوٹنے پر رضا مند نہ تھا۔اچھی طرح جم کر بیٹھتا نہ مضبوطی سے پکڑتا تھا۔خطرہ اس کے گر کر چوٹ کھانے کا تھا۔جس کی اس میں تاب تھی نہ سکت۔ناچار یکہ والے کو کہ سن کر ایک کو اس کے ساتھ بٹھایا تا محمد دین کو تھامے رہے اور باقی پیدل یکہ کے ہمراہ خدا کے فضل سے کامیاب و با مراد خوش و خرم لوٹے۔قادیان پہنچے۔ماں اس کی راہیں تکتی انتظار میں تھی۔خدا کا شکر بجالائی اور دوڑ کر حضرت کے حضور اس کی واپسی کی اطلاع اور خوشی کا مژدہ سنایا۔حضور پُر نور خوش ہوئے۔دعائیں دیں اور محمد دین کے ساتھ زیادہ نیک اور زیادہ محبت کے سلوک کی تاکید فرماتے ہوئے تشریف لے گئے۔محمد دین کو ملامت کی نہ کچھ جتایا۔فرمایا تو صرف یہ کہ آپ کو اگر سیر کا خیال تھا تو ہم سے کہتے ہم خود اس کا انتظام کر دیتے۔آپ نے بے فائدہ تکلیف پائی اور زحمت اٹھائی۔ماں کی تکلیف کا بھی آپ کو خیال نہ آیا وغیرہ۔“