اصحاب احمد (جلد 9) — Page 241
۲۴۱ بٹالے۔اگر کفرستان میں پہنچنے میں وہ کامیاب ہو گیا تو میرا کوئی ٹھکانہ نہیں۔میں زندہ ہی مرمٹوں گی وغیرہ۔پھیلاں کی بات اب کچھ ہماری سمجھ میں آئی۔مطلب اس کا سمجھ کر اسے حضرت کے حضور عرض کرنے کا مشورہ دیا گیا چنانچہ وہ دوڑی گئی۔حضرت آرام فرمارہے تھے۔اس کی تکلیف اور بے قراری کی تاب نہ لا کر حضور آپ بے قرار ہو کر کھڑے ہو گئے مطلب پا کر حکم بھیجا۔فور آجاؤ محمد دین جہاں کہیں ملے پکڑ لاؤ۔“ اور خود اس کو تسلی دی۔اطمینان دلایا۔حوصلہ کرو۔گھبراؤ نہیں۔یہ بیٹا تمہارا جا نہیں سکتا آ جائے گا۔“ ہم لوگ حکم پاتے ہی کھڑے ہو گئے جو جس حال میں تھا بھاگ نکلا۔کوئی سر سے نگا بھاگا، کوئی پیر سے۔ہر کسی کو یہی خیال تھا کہ وہ پیچھے نہ رہ جائے۔گرمی کا خیال نہ دھوپ کی پرواہ۔مارا مار کرتے ہوئے دوڑے۔تھوڑی دور ایک آگے لگتا اور کچھ دور جا کر دوسرا اس کی جگہ لے لیتا۔اور اس طرح ادلتے بدلتے موڑ تک پہنچے۔نہر پر پہنچے آخر و ڈالہ بھی آ گیا۔مگر محمد دین کا پتہ نہ لگا۔حکم ہمارے آقا کا تھا اور قوت بھی ہمیں وہیں سے مل رہی تھی۔تکان معلوم ہوئی نہ گرمی ، بلکہ امید بھرے دل سے ہمارے قدم برا بر آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے اور زمین ہمیں لپٹتی معلوم دے رہی تھی۔امیر اس قافلہ کے مخدومی محترم بھائی عبدالرحیم صاحب اور شیخ عبدالعزیز صاحب ( نومسلم) ایک صاحب چوہدری نورالدین نام اور خاکسار راقم عبدالرحمن قادیانی۔یہ چار نام تو مجھے ایک اور ایک دو کی طرح یاد ہیں۔ایک صاحب اور کے متعلق مجھے شبہ ہے مگر ان کا نام یاد آ تا ہے نہ اتا پتا۔پورے چھ میل کی سرگرم دوڑ کے بعد جبکہ ہم لوگ وڈالہ سے اس پار کی ریت کے بلند ٹیکروں پر پہنچے امید کی شعاع اور جھلک ہمیں نظر آئی اور ایک مجسمہ کو ہم نے محمد دین فرض کر کے زیادہ تیزی سے دوڑنا شروع کیا۔جوں جوں ہم اس بت کے قریب ہوتے گئے ہمارا خیال یقین سے بدلتا گیا۔حتی کہ جب ہم پوری شناخت کی حدود میں داخل ہو کر حق الیقین تک پہنچ گئے اور محمد دین نے بھی تاڑ لیا کہ اب وہ پکڑا گیا۔بھاگنے اور چھپ جانے کی کوئی راہ نہ پا کر سڑک چھوڑ کر ایک طرف ہو کر رفع حاجت کے طریق پر بیٹھ گیا۔اور دیر تک بیٹھا رہا۔غالباً اس کا گمان یہ تھا کہ ہم لوگوں نے اسے پہچانا نہیں اور اس طرح راستہ سے ایک طرف ہو کر گویا وہ ہم سے پوشیدہ ہو گیا ہے۔ہم لوگ کنویں پر پہنچ کر رک گئے جہاں ایک پختہ کمرہ کے علاوہ سڑک کے کنارے اور کنویں کے گرد توت کے چند سایہ دار درخت لگے ہوئے تھے اور قادیان سے بٹالہ جانے والی سڑک کے بائیں جانب یہ