اصحاب احمد (جلد 9) — Page 231
۲۳۱ پر لانے میں ساعی وکوشاں تھے۔وہ جانتے تھے کہ اس زہر کا تریاق کہاں ملتا ہے اور ایسے روحانی مریضوں کو جام شفا کس جگہ سے میسر آ سکتا ہے۔اس سازش کا بھانڈا پھوٹتے ہی انہوں نے اپنے عزیز کو اس مکدرفضا اور مسموم آب و ہوا سے نکال کر دار الامان پہنچایا۔جہاں پہنچتے ہی زہرا تر نے لگا۔بیمار چنگا ہوتا گیا اور خدا کا فضل ہے کہ آج تک زندہ سلامت نو رایمان سے منوراسی در کا گدا دھونی رمائے پڑا ہے۔اللہ کرے عاقبت بھی محمود ہو۔آمین۔اسی محلہ میں بلکہ اسی کو چہ میں سردار صاحب کے زیر سایہ ایک شخص عبداللہ نام قوم کے مراثی اور پیشہ کے پٹواری کا بیٹا محمد دین نام بھی اس مرض میں مبتلا اور اسی صیاد کا صید ہو کر عیسائیت کے گڑھ گوجرانوالہ پہنچایا جا چکا تھا۔محمد دین میں قوت دافع کی بجائے قبولیت کی استعداد اور جذب کا مادہ غالب تھا۔اس نے عیسائیت کا اثر قبول کیا۔اور ایسا گہرا رنگ پکڑا کہ جس کا اثر جانا کچھ آسان نہ تھا۔والدین اور بھائی بہنوں سے جدا ہو کر وہ ایسا غائب ہوا کہ کچھ عرصہ تو پتہ نہ ہی چلا کہ گیا کہاں اور ہے کدھر۔مدت بعد جب اس کی خبر ملی تو اس کی حقیقی ماں جو اس کے فراق میں بھی بے قرار ، اس کی جدائی سے بے چین، رات دن رونے دھونے میں بسر کیا کرتی تھی مامتا سے مجبور غیرت کے مارے مسلمانی کے نام اور ناموس کے بچانے کی نیت سے کمر ہمت باندھ نیت سادھ کر کھڑی ہوئی۔خاوند سے بصد منت اجازت لے کر گوجرانوالہ پہنچی جہاں اس کا لخت جگر اور نور نظر نہ معلوم کتنے پردوں اور سخت اوٹوں کے پیچھے چھپا کر رکھا ہوا تھا۔اس کی ہمت ، اس کا اصرار، اس کا استقلال، حصول مقصد میں اس کا معاون بنا۔اس کے دل میں امتا اور مامتا کے ساتھ ایک درد تھا، تڑپ تھی اور ایک کچی خواہش۔زبان صاف تھی۔اور مافی الضمیر کے بیان پر قادر جس سے سنگدل صیاد بھی موم ہو گئے اور اس طرح وہ مدت سے بچھڑے ہوئے بیٹے کو ملنے میں کامیاب ہو گئی۔در دہجر و فراق سے چور، فلاکت زدہ اور محزون ایک حقیقی ماں اور بیٹے کی ملاقات کا منظر ہر آنکھ دیکھ اور ہر دل محسوس کر سکتا ہے جس نے آغوش مادر کی لذت چکھی اور اس کی محبت اور لطف سے حصہ پایا ہو۔ان تفاصیل کو چھوڑتا اور قصہ مختصر کرتا ہوں۔ماں نے دل کھول کر بھر اس نکالی۔گویا کلیجہ نکال کر بیٹے کے سامنے رکھ دیا اور انتہائی کوشش کی ، سارا زور لگایا۔کوئی طریق نہ چھوڑا بیٹے کو سمجھانے اور اس کا دل نرم کرنے کا۔مگر بے سود۔یہ وہ نشہ ہی نہ تھا جسے ترشی اتار دے زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد۔نا چار دل کو تھامے یوں تسلی دیتی ہوئی بولی۔اچھا زندہ رہو۔پھر ملوں گی۔ملنے کی راہ تو کھل گئی۔