اصحاب احمد (جلد 9) — Page 230
۲۳۰ سے بے بہرہ اور کورے تھے۔لہذا عیسائی مشن اور چرچ ان کو مہذب و با اخلاق بنانے ، زیور تعلیم سے آراستہ کر کے بامذاق بنانے کی غرض سے وہاں پہنچا۔مشن قائم ہوا۔سکول جاری کیا۔ہسپتال کھولا۔وعظ ونصیحت اور تبلیغ و وصیت کا سلسلہ جاری ہوا۔ہوتے ہوتے اس کا سکہ جم گیا۔کام چل نکلا۔نو جوان طبقہ پر ڈورے ڈالے جانے لگے۔کوئی دقیقہ حصول مقصد کا اٹھا نہ رکھا گیا سارے ذرائع اور تمام وسائل پوری عظمندی سے استعمال کئے جاتے رہے اور اس طرح اندر ہی اندرنئی پود پر گویا ان کا اب قبضہ و تصرف ہو گیا۔نوجوانوں کو ایسی کچھ چاٹ لگی کہ خود بخود کھچے چلے آتے۔بے بلائے جمع رہتے۔نوبت یہاں تک پہنچی کہ رو کے نہ رکتے نہ ہٹائے ہٹتے۔” جادو وہ جو سر پر چڑھ کر بولے۔ایک پارٹی بن گئی جس نے والدین اور رشتہ داروں کو چھوڑ نا منظور کر لیا مگر پادری صاحبان کی کوٹھی، گھر یا مکان و بیٹھک کو چھوڑ نا پسند نہ کیا۔کئی نے والدین کو کھلے نوٹس دے دیئے۔کئی چپکے سے گھروں کو چھوڑ وہیں پہنچ گئے جہاں منادوں نے اشارہ کیا۔بڑے بڑے معزز گھرانے بگڑنے لگے۔کہیں لڑکوں کی خرابی کا رونا تھا تو کہیں لڑکیوں کے بگڑنے کا۔غرض ایک طوفان تھا جس کی زد میں کئی شریف گھرانوں کی عزت و ناموس کے تابوت بہتے اور ڈوبتے دکھائی دے رہے تھے۔سید مغل، پٹھان، شیخ کا استثناء تھا نہ امیر وغریب کا۔کئی گھرانے میرے علم میں ہیں اور کئی نام میرے سامنے ہیں مگر میں اس وقت صرف ایک دو ہی کا ذکر کرتا ہوں۔صوبیدار سردار امام بخش کے گھرانے میں بھی سیندھ لگی۔نہایت ہی خفیہ رنگ میں ، نا معلوم را ہوں سے یہ دجالی کو برا ان کے خاندان تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔شاہنواز کا پوتا، علی محمدکا اکلوتا احمد دین بھی ڈس لیا گیا۔زہر تیز تھا ایسا کہ اس کے اتر جانے کی کوئی امید ہی نہیں تھی۔بیمار جاں بلب اور منٹوں ہی کا مہمان تھا۔قافلہ تمام زنجیریں توڑ ، روکیں اٹھا، رخت سفر باندھ کر کسی جانب بھاگ نکلنے کا فیصلہ کر چکا تھا اور اس گھرانے کے جل کر تو وہ خاک ہو جانے میں کسر اب صرف ایک دیا سلائی دکھا دینے ہی کی رہ گئی تھی۔خدا نے رحم کیا۔کوئی نیکی آڑے آئی۔کسی کے ہاتھ کا دیا کام آیا۔احمد دین نے راز فاش کر دیا۔سازش کا انکشاف ہو گیا جس کے نتیجہ میں یہ خود بھی بچا اور کئی ساتھوں کے بچاؤ کا موجب بنا۔اگر چہ اکثر بد نصیب اب بھی نہ بچ سکے اور نکل ہی گئے۔اس خاندان میں احمدیت پہنچ چکی تھی۔کا سر الصلیب مسیحائے زماں نام کا سایہ اور علم کلام کا چر چا تھا۔صو بیدار صاحب کے صاحبزادے شیخ مولا بخش صاحب بیعت وایمان کے زیور سے آراستہ ہو کر دارالامان سے روحانی رشتہ جوڑ چکے تھے۔اور لگانے بیگانوں کو اس نور سے منور کرنے اور اس چشمہ شیر میں