اصحاب احمد (جلد 9) — Page 229
۲۲۹ ڈپٹی کمشنر کا نام مجھے اس وقت یاد نہیں۔پچاس برس کا زمانہ گذر گیا ہے۔“ محترم ایڈیٹر صاحب بدر کو حضرت منشی محمد دین صاحب ساکن کھاریاں ( درویش مقیم قادیان ) نے بھی یہ واقعہ بتایا اور بیان کیا کہ میں بھی اس وفد میں شامل تھا اور حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی بھی۔-1 ۱۴ - سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور ایک مردانہ ہمت عورت تیرہ کے عدد کو عام طور پر برا اور منحوس سمجھا جاتا ہے۔مسلمانوں میں بھی تیرھویں صدی کے متعلق کچھ ایسی روایات اور حالات کا ذکر پایا جاتا ہے کہ ان کے خیال سے بھی دل کانپ اٹھتا ہے اور بدن پر رعشہ نمودار ہونے لگتا ہے۔ان احوال کا تصور اتناز ہرہ گداز اور روح فرسا ہوتا ہے کہ خدا کے فضل کی امید اور اس کی تائید و نصرت کا سہارا نہ ہوتا تو روحانی دنیا کا تو گویا خاتمہ ہی تھا۔تیرھویں صدی کا آخری نصف گویا خدا کی جگہ شیطان کی حکومت کا زمانہ اور کفر و شرک ، گناہ وفسق ، عیاری ومکاری اور روحانی فساد کا زمانہ تھا۔دہریت کا غلبہ، مادیت کا زور، اور بے دینی کا چرچا تھا۔شیطانی طاقتیں اپنے سارے لاؤ لشکر سمیت حق کو مٹانے ، روحانیت کو دبانے اور صداقت کو دفنا دینے پر تلی ہوئی تھیں۔دجال کا ظہور ہو کر تسلط پاتا جارہا تھا۔ہر جگہ اڈے قائم کر کے بندوں کو خدا سے پھیرنے کے سامان جمع کئے جاتے۔مشن کھول کر دانہ بکھیر کر ایسے جال بچھائے جاتے کہ بھولے بھالے نوجوان آسانی سے ان کا شکار ہو کر متاع ایمان تک سے محروم ہو جاتے۔ان کے پادری ان کے منادا اپنے رنگ میں کام کرتے تو عورتیں اپنے طریق پر۔سکولوں میں ماسٹر تو ہسپتالوں میں ڈاکٹر کہیں نرسیں تو کہیں (nuns) تھیں۔الغرض ہر سو چار دانگ عالم میں انہی کا شہرہ انہی کا چرچا اور انہی کا غلبہ نظر آتا تھا۔کوئی شہر ان سے خالی تھانہ کوئی قصبہ باقی۔بلکہ قریہ بہ قریہ اور یہ بہ د یہ یہ صیادا اپنے شکار کی تاک میں رہا کرتے۔کہیں یہ شکار کے پیچھے کہیں شکار ان کے پیچھے پھرتے۔کیونکہ دنیا کے کئی دکھوں کا درماں ان کے ہاں اور کئی بیماریوں کی دوا اس زمانہ میں انہی کے پاس ملا کرتی تھی۔ڈنگہ نامی ایک چھوٹا سا قصبہ ضلع گجرات ( پنجاب ) میں واقعہ ہے۔اکثریت مسلمانوں کی ہے جو عموماً زراعت پیشہ مزدوری پیشہ اور مفلوک الحال غربت زدہ لوگ تھے کیونکہ اس زمانہ میں اراضیات زیادہ تر بارانی و بنجر تھیں۔نہر کا کوئی انتظام نہ تھا دوسرے بڑے بڑے شہروں اور قصبات و دیہات کی طرح یہ مقام بھی پوا در ومناد کی خاص تو جہات کا مرکز بنا ہوا تھا اور لوگ چونکہ اس دور کی تہذیب واخلاق اور تعلیم و مذاق