اصحاب احمد (جلد 9) — Page 223
۲۲۳ پہنچ کر وہاں سے پڑھ یا سن کر بول رہی تھی۔زبان مبارک چلتی تو حضور ہی کی معلوم دیتی تھی مگر کیفیت کچھ ایسی تھی کہ بے اختیار ہو کر کسی کے چلائے چلتی ہو۔یہ سماں اور حالت بیاں کرنا مشکل ہے۔انقطاع تبتل ، ر بودگی یا حالت مجذوبیت و بے خودی و وارفتگی اور محویت نامہ وغیرہ الفاظ میں سے شاید کوئی لفظ حضور کی اس حالت کے اظہار کے لئے موزوں ہو سکے۔ورنہ اصل کیفیت ایک ایسا روحانی تغیر تھا جو کم از کم میری قوت بیان سے تو باہر ہے کیونکہ سارا ہی جسم مبارک حضور کا غیر معمولی حالت میں یوں معلوم دیتا تھا جیسے ذرہ ذرہ پر اس کے کوئی نہاں در نہاں اور غیر مرئی طاقت متصرف و قا بو یافتہ ہو۔لکھنے والوں کی سہولت کے لئے حضور پر نور فقرات آہستہ آہستہ بولتے اور اکثر دہرا دہرا کر سناتے تھے۔خطبہ الہامہ کے نام سے جو کتاب حضور نے شائع فرمائی یہ بہت بڑی ہے۔۱۹۰۰ ء کی عید قربان کا وہ خاص خطبہ مطبوعہ کتاب کے ۳۸ صفحات تک ہے باقی حصہ حضور نے بعد میں شامل فرمایا۔-^ یہ جلسہ اور مجلس ذکر لمبی ہوئی اور نماز کا وقت آگیا۔کیونکہ حضور پر نور نے جب یہ خطبہ عربی ختم فرمایا تو دوستوں میں اس کے مضمون سے واقف ہونے کا اشتیاق اتنا بڑھا کہ حضور نے بھی آخر پسند فرمایا کہ حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب اس کا ترجمہ لوگوں کو سنا دیں۔چنانچہ مولانا موصوف نے خوب مزے لے لے کر اس تمام خطبہ کا ترجمہ اردو میں اپنے خاص انداز اور لب ولہجہ میں سنا کر دوستوں کو محظوظ اور خوش وقت فرمایا اور یہ کیفیت بھی اپنے اندر ایک خاص لطف سرور اور لذت روحانی رکھتی ہے۔اور ترجمہ ابھی غالباً پورا بھی نہ ہوا تھا کہ اچانک کسی خاص فقرہ سے متاثر ہوکر یا اللہ تعالیٰ کے خاص القاء کے ماتحت سید نا حضرت اقدس کرسی سے اٹھ کر سجدہ میں گر گئے۔اور اسی طرح سارا مجمع تھوڑی دیر کے بعد حضور کے ساتھ خدائے بزرگ و برتر کے اس عظیم الشان نشان“ کے عطیہ کے لئے آستانہ الوہیت پر گر کر جبین نیاز ٹکائے اظہار تشکر و امتنان کرتا رہا۔فالحمد لله ! الحمد لله ثم الحمد لله على ذلک۔۹ - سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خواہش فرمائی کہ اس خدائی نشان کو لوگ یاد کرنے کی کوشش کریں۔چنانچہ حضور کے ارشاد کی تعمیل میں خطبہ الہامیہ کی اشاعت کے بعد بہت سے دوستوں نے اس کو یاد کرنا شروع کیا۔بعض نے پورا یاد کر لیا تو بعض نے تھوڑا۔مگر ان دنوں اکثر یہی شغل تھا اور ہر جگہ ہر مجلس میں اسی خطبہ یعنی خطبہ الہامیہ کے پڑھنے اور سننے سنانے کی مشق ہوا کرتی تھی۔بعض روز شام کے دربار میں کوئی کوئی دوست بھری مجلس میں حضرت اقدس کے سامنے یاد کیا ہوا سنا یا بھی کرتے تھے اور اس طرح خدا کی اس نعمت کا چرچا رہتا تھا۔میں نے بھی تین چار صفحات یاد کئے تھے۔