اصحاب احمد (جلد 9) — Page 216
۲۱۶ اس خدمت کی غرض سے قادیان لایا تھا اور پھر پہلے کی طرح غائب ہو گئے۔حضرت منشی جلال الدین صاحب بلا نوی اور حضرت پیر جی سراج الحق صاحب نعمانی رضوان اللہ علیہم دونوں بزرگوں کے ہاتھ کا نقل کردہ حضرت اقدس کا وہ مضمون جن پر سے حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اس جلسہ میں پڑھ کر سنایا تھا۔آج تک میرے پاس محفوظ ہے۔مگر چونکہ اس مقدس اور قیمتی امانت کی حفاظت کا حق ادا کرنے سے قاصر ہوں لہذا قومی امانت سمجھ کر اس کو سید نا قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ عالی مقام مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ ، ربہ کے سپرد کرتا ہوں۔جو ایسے کاموں کے احق اور اہل ہیں تا کہ قائم ہونے والے قومی میوزیم میں رکھ کر اس کو آنے والی نسلوں کے ایمان وایقان کی مضبوطی و زیادتی اور عرفان میں ترقی کا ذریعہ بنا سکیں۔فقط عبدالرحمن قادیانی ۲۰ جولائی ۱۹۴۲ء * بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ مکرم و محترم مہتہ شیخ بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی سلمکم اللہ تعالیٰ السلام عليكم و رحمة الله وبرکاته به تعمیل ارشاد روایات متعلقہ جلسہ مہوتسو رجسٹر نمبر ۱۱۴ صفحه ۱۷۸ کتب خانه صدرانجمن احمد یہ نقل کر کے حاضر خدمت ہیں۔اصل کا غذات متعلقہ مورخہ ۲ /جنوری ۱۹۴۶ء کو اضافہ بوقت طبع دوم) الفضل جلد ۳ نمبر ۳۷ بابت ۶ ستمبر ۱۹۱۵ء میں ویر عنوان ” خبریں“ یہ خبر درج ہے: سوامی شوگن چندر جی اچار یہ جو ایک تعلیم یافتہ سادھو تھے۔بڑے قابل ،صوفی منش، بے تعصب اور علم دوست ، افسوس کہ ۷اراگست کو دہلی میں بعمر ۶۷ (ستاسٹھ ) سال انتقال کر گئے۔دھرم مہوتسو والا مشہور و معروف مضمون ”اسلام کی فلاسفی (یعنی اسلامی اصول کی فلاسفی۔ناقل ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انہی کی استدعا پر لکھا تھا جو خدا کے فضل سے دیگر مضامین کے مقابلہ میں سب سے زیادہ مکمل، موثر مقبول و غالب رہا۔“ طبع اول میں اس مضمون کو غیر مطبوعہ بتایا گیا ہے جو سہو تھا۔دراصل حضرت بھائی جی نے یہ مضمون تقسیم ملک سے پہلے نقل کر کے رکھ لینے کے لئے خاکسار کو دیا تھا اور بعد تقسیم ملک اسے شائع فرما دیا۔