اصحاب احمد (جلد 9) — Page 217
۲۱۷ ریل گاڑی میں گم ہو گئے ہیں۔۱۵ جلسه مہوتسو سوا می شوگن چندر کے اشتہار جو ( محمد الدین ۴۶-۶-۲۳ ) بمقام لاہور منعقد ہوا تھا۔سوا می شوگن چندر رسالہ فوجی میں ہیڈ کلرک تھا اور منشی ( مرزا) جلال الدین صاحب ( کا) ہمنشیں اور صحبت یافتہ تھا۔منشی صاحب فرماتے تھے کہ اس کے عیال واطفال فوت ہو گئے اس لئے نوکری چھوڑ کر فقیر بن گیا۔۱۶ جلسہ کا مضمون ( اسلامی اصول کی فلاسفی ) پڑھے جانے سے پہلے مخفی رکھا گیا تھا۔حضرت صاحب نے منشی جلال الدین صاحب کو اس کی کاپی لکھنے پر مامور فرمایا۔اور فرمایا کہ منشی صاحب کا خط ما فقر ہوتا ہے اس لئے آپ ہی اس کو لکھیں۔چنانچہ منشی صاحب نے وہ مضمون اپنی قلم سے لکھا۔۱۷۔منشی صاحب فرماتے تھے کہ حضرت صاحب نے فرمایا کہ میں نے اس مضمون کی سطر سطر پر دعا -12 کی ہے۔۱۸۔مضمون کے لکھے جانے اور پڑھے جانے کے وقت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیمار تھے اس لئے مضمون پڑھنے کے لئے خواجہ کمال الدین صاحب کو تیار کیا جار ہا تھا لیکن خواجہ صاحب انگریزی خواں تھے۔قرآن شریف عربی لہجہ میں پڑھ نہ سکتے تھے۔آخر وقت پر مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھ کر جلسہ پر لاہور میں سنایا۔میں محمد دین جلسہ پر حاضر نہیں ہوسکا تھا۔میرے حلقہ پٹوار میں ( تین چار حصہ میں تقسیم تھی ) چھ سات امسلمہ تقسیم زیر کار تھیں جن کی وجہ سے مجھے رخصت نہ مل سکی۔اس لئے منشی جلال الدین صاحب حاضر ہوئے تھے۔انہوں نے سنایا کہ اللہ تعالیٰ کی تائید مجزانہ رنگ میں ہوئی۔سردی کے موسم کے باوجود کسی شخص کو کھانسی یا چھینک نہ آئی۔ہمہ تن گوش ہو کر لوگوں نے سنا۔آخر سکھوں نے مسلمانوں کو جھا مار کر اٹھایا اور مبارکبادیں دیں۔اور یہ کہا کہ ” جے کدے مرزا ایہو جیہا اک مضمون ہور دو۔تاں مسلمان ہی ہونا پیو۔“ (یعنی اگر مرزا ایسا ہی مضمون اور دیوے گا تو ہم کو مسلمان ہی ہونا پڑے گا )۔نیز منشی صاحب نے فرمایا کہ جانو ریعنی پرندوں پر بھی الہی تصرف تھا کہ چڑیا تک کی بھی کوئی آواز سنائی نہ دی۔محمد الدین ۴۶-۶-۲۳ حضرت صاحب نے اس مضمون کے متعلق ماہ اگست ۱۸۹۶ء یعنی جلسہ سے چار ماہ قبل