اصحاب احمد (جلد 9) — Page 212
۲۱۲ موصوف کے لہجہ میں فرق آیا نہ جوش ولذت ہی پھیکے پڑے۔معارف میں فراوانی کے ساتھ عبارت کی سلاست وروانی اور مضمون کی خوبی و ثقاہت نے حاضرین کو ایسا از خود رفتہ بنا دیا جیسے کوئی مسحور ہو۔میں نے کانوں سنا کہ ہندو اور سکھ بلکہ کٹر آریہ سماجی اور عیسائی تک بے ساختہ سبحان اللہ سبحان اللہ پکار رہے تھے۔ہزاروں انسانوں کا یہ مجمع اس طرح بے حس و حرکت بیٹھا تھا جیسے کوئی بہت بے جان ہوں اور ان کے سروں پر اگر پرندے بھی آن بیٹھتے تو تعجب کی بات نہ تھی۔مضمون میں روحانی کیفیت دلوں پر حاوی تھی۔اور اس کے پڑھنے کی گونج کے سوا سانس تک لینے کی آواز نہ آتی تھی۔حتی کہ قدرت خداوندی سے اس وقت جانور تک خاموش تھے۔اور مضمون کے مقناطیسی اثر میں کوئی خارجی آواز رخنہ انداز نہیں ہو رہی تھی۔کم و بیش متواتر دو گھنٹے یہی کیفیت رہی۔افسوس کہ میں اس کیفیت کے اظہار کے قابل نہیں۔کاش میں اس لائق ہوتا کہ جو کچھ میں نے دیکھا اور سنا اس کے عکس کا عشر عشیر ہی بیان کر سکتا۔جس سے اس علمی معجزہ ونشان کی عظمت دنیا پر واضح ہو کر خلق خدا کے کان حق کے سننے کو اور دل اس کے قبول کرنے کو آمادہ وتیار ہوتے جس سے دنیا جہان کے گناہ معاصی اور غفلتیں دور ہو کر ہزاروں انسان قبول حق کی تو فیق پاتے۔۱۵۔ساڑھے تین بج گئے۔وقت ختم ہو گیا۔جس کی وجہ سے چند منٹ کے لئے اس پر لذت وسرور کیفیت میں وقفہ ہوا۔اگلا نصف گھنٹہ مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی کے مضمون کے لئے تھا انہوں نے جلدی سے کھڑے ہوکر پبلک کے اس تقاضا کو کہ ” یہی مضمون جاری رکھا جائے۔‘ نیز کسی اور کی جگہ اسی مضمون کو وقت دیا جائے۔اس مضمون کو مکمل اور پورا کیا جائے۔‘ اپنا وقت دے کر پورا کر دیا بلکہ اعلان کیا کہ ” میں اپنا وقت اور اپنی خواہش اس قیمتی مضمون پر قربان کرتا ہوں۔‘“ چنانچہ پھر وہی پیاری مرغوب اور دلکش و دل نشین داستان شروع ہوئی۔اور پھر وہی سماں بندھ گیا۔چار بج گئے مگر مضمون ابھی باقی تھا اور پیاس لوگوں کی بجائے کم ہونے کے بڑھی جارہی تھی۔سامعین کے اصرار اور خود منتظمین کی دلچسپی کی وجہ سے مضمون پڑھا جاتا رہا حتی کے ساڑھے پانچ بجے گئے۔رات کے اندھیرے نے اپنی سیاہ چادر پھیلانی شروع کر دی اور اس طرح مجبوراً یہ نہایت ہی میٹھی اور پر معرفت اور مسرت بخش مجلس اختتام کو پہنچی اور بقیہ مضمون ۲۹ / دسمبر کے لئے ملتوی کیا گیا۔کوئی دل نہ تھا جو اس لذت وسرور کو محسوس نہ کرتا ہو۔کوئی زبان نہ تھی جو اس کی خوبی و برتری کا اقرار واعتراف نہ کرتی اور اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللسان نہ تھی۔ہر کوئی اپنے حال اور قال سے