اصحاب احمد (جلد 9) — Page 206
۲۰۶ حوادث نے دنیا کی بے ثباتی کا ایک نہ مٹنے والا خیال اس کے دل و دماغ پر مستولی کر دیا۔اس کی بیوی اور بچے بلکہ خویش واقارب تک اس سے جدا ہو گئے اور وہ یکہ و تنہا رہ گیا۔دل و دماغ میں پیدا شدہ تحریک نے اندر ہی اندر پرورش پائی۔ذاتی چیزوں کے اثرات نے اس کے خیالات کی رو کارخ کسی غیر فانی اور قائم بالذات ہستی کی تلاش کی طرف پھیر دیا۔جس سے متاثر ہو کر اس نے ملازمت چھوڑ کر ترک دنیا اور تلاش حق کا عزم کر لیا۔اور سادھو بن کر جا بجا گھومنے اور ڈھونڈ نے میں مصروف ہو گیا۔نہ معلوم کتنا عرصہ پھرا اور کہاں کہاں گیا۔اور اس نے کیا کچھ دیکھا اور سنا جس کے بعد اس کو کسی نے ہمارے آقا و مولا، ہادی وراہ نمائے زمان کا پتہ دیا۔اور قادیان کی نشان دہی کی جس پر وہ صدق دلانہ اخلاص وعقیدت سے پہنچ کر حصول مقصد و مدعا کی کوشش میں مصروف ہو گیا۔حضور کی صحبت میں رہ کر وہ فیوض پانے لگا۔اور ہوتے ہوتے ایسا گرویدہ ہوا کہ اس کی ساری خوشی تسلی و اطمینان حضور کی صحبت اور کلمات طیبات سے وابستہ ہو گئے۔جس کی وجہ سے وہ یہیں تک جانے پر آمادہ ہو گیا۔مگر اللہ تعالیٰ کو اس کے ذریعے اپنا ایک نشان ظاہر کرنا منظور اور ایک کرشمہ قدرت دکھانا مطلوب تھا۔جس کے لئے اس ذات بابرکات نے اتنے تغیرات کئے اور ذرات عالم پر خاص تصرفات فرمائے اور اس شخص کو قادیان پہنچایا۔جو کبھی لالہ پھر مسٹر اور باوا آخر سوامی شوگن چندر کے نام سے موسوم ہوا۔-۴ مہمان نوازی کا خلق شیوہ انبیاء ہے اور حضور پر نور کو اس خلق میں کمال حاصل تھا۔اس کے ساتھ ہی ساتھ حسن سلوک اور احسان و مروت میں حضور اپنی مثال صرف آپ ہی تھے۔تالیف قلوب کے وصف عظیم کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی خلق کا جذ بہ حضور میں بے نظیر وعدیم المثال تھا اور ان تمام خصائل حسنہ اور فضائل کے علاوہ حق وصداقت اور علم و حکمت کے خزائن حضور کے ساتھ تھے جو حضور کے تعلق باللہ اور مقبول بارگاہ ہونے کی دلیل تھے اور ان حقائق کے ساتھ ہی ساتھ خدا سے ہم کلامی کا شرف اور قبولیت دعا کے نمونے ایسی نعماء تھیں جن سے کوئی بھی نیک فطرت اور پاک طینت متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا تھا۔اور در حقیقت یہی وہ چیزیں ہیں جن کو نا واقف دنیا نے جادو اور سحر کے نام لے کر حضور پر نور سے دنیا جہان کو دور رکھنے کی نا کام سعی کی ہے۔۔۔سوامی شوگن چندر بھی ان کرامات کا شکار ہوئے اور جس چیز کی ان کو تلاش تھی۔اور دنیا میں وہ چیز ان کو کہیں بھی نہ ملی تھی آخر خدا کی خاص حکمت کے ماتحت ان کو قادیان میں وہ کچھ مل گیا جن کی انہیں جستجو تھی اور وہ کچھ انہوں نے یہاں دیکھا جو دنیا جہان میں انہوں نے نہ دیکھا تھا نہ سنا۔وہ خوش تھے اپنی خوش بختی پر کہ ان کو جس چیز کی خواہش اور تلاش تھی آخر خدا نے عطا کر دی۔مگر ہمارے