اصحاب احمد (جلد 9) — Page 205
۲۰۵ فروگذاشت کی۔دن کیا رات حضور کو یہی فکر رہتی اور حضور کوئی موقع تبلیغ کا ہاتھ سے جانے نہ دیا کرتے۔اٹھتے بیٹھتے ، چلتے پھرتے ، خلوت میں اور جلوت میں۔الغرض ہر حال میں اسی فکر اور اسی دھن میں رہتے۔چنانچہ حضور پر نور کے سوانح کا ہر ورق اور حیات طیبہ کا ہرلمحہ بزبان حال میرے اس بیان کا گواہ اور شاہد عادل ہے۔لمبے مطالعہ اور حضور کی تصنیف کی گہرائیوں کو الگ رکھ کر اگر حضور کے صرف ایک دو ورقہ اشتہار پر ہی به نیت انصاف ، تعصب سے الگ ہو کر نظر ڈالی جائے جو حضور نے 9 ستمبر ۱۸۹۰ء کو شائع فرمایا تو یقیناً میرے اس بیان کی تصدیق کرنا پڑے گی۔اور حضور کی اس بچی تڑپ اور خلوص نیت ہی کا نتیجہ تھا کہ اللہ تعالیٰ بھی ہر رنگ میں آپ کی غیر معمولی تائید و نصرت فرماتا۔اور غیب سے سامان مہیا فرما دیا کرتا اور حضور خدا کے اس فضل و احسان کا اکثر تحدیث نعمت کے طور پر یوں ذکر فر ما دیا کرتے کہ خدا کا کتنا فضل واحسان ہے کہ ادھر ہمارے دل میں ایک خواہش پیدا ہوتی ہے یا کوئی ضرورت پیش آتی ہے اور ادھر اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرنے کے سامان مہیا کر دیتا ہے۔“ ۱۸۹۶ء کے نصف دوم کا زمانہ تھا کہ اچانک ایک اجنبی انسان سادھو منش بھگوے کپڑوں میں ملبوس، شوگن چندر نام وارددار الامان ہوا۔اور جلد ہی ہماری مجالس کا ایک بے تکلف رکن نظر آنے لگا۔ایک آدھ دن سیدنا حضرت حکیم الامت مولانا مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مجلس میں شریک ہوا۔تو دوسرے ہی روز وہ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دربار شام اور صبح کی سیر میں شامل ہو کر حضور کی خاص توجہات کا مورد بن گیا۔کیونکہ وہ شخص اپنے آپ کو حق کا متلاشی اور صداقت کا طالب ظاہر کرتا ہوا اپنی روحانی پیاس بجھانے کے لئے آسمانی پانی کی تلاش میں دور ونزدیک، قریہ بہ قریہ بلکہ کو بکو سرگرا دں پھرتا ہوا قادیان کی مقدس بستی میں اپنے مدعا و مقصود کے حصول کی امید لے کر آیا اور کچھ لے کر ہی لوٹنے کی نیت سے پہنچا تھا اور اس کی نیک نیتی ہی کا نتیجہ تھا کہ وہ با وجود بالکل غیر ہونے کے بہت جلدا پنا لیا گیا۔وہ صرف سادھو تھا جو بھگوے کپڑوں میں اپنا فقر و حاجات چھپائے تھا اور نہ ہی کوئی ایسا سوالی ، جس کو دام و درہم کی ضرورت اور روپیہ پیسے کا لالچ قادیان میں تقسیم ہوتے خزائن کی خبریں یہاں کھینچ لائی ہوں بلکہ وہ واقعہ میں متلاشی حق اور طالب صداقت تھا۔ورنہ خدا کا برگزیدہ مسیح الزمان جس کی فراست کامل جو ہر شناس تھی اور جو خدا کے عطا فرمودہ نور سے دیکھا کرتا تھا یوں اس کی طرف ملتفت نہ ہو جاتا۔شوگن چندر ایک تعلیم یافتہ اور معقول انسان تھا جو گورنمنٹ میں کسی اچھے عہدہ پر فائز تھا۔بعض