اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 194 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 194

۱۹۴ ناپ تول کر کئے جاتے ہیں جن کا مدار سراسر فضل الہی پر ہوتا ہے۔وہاں کوئی شیخی کام آسکتی ہے نہ زبانی جمع خرچ۔دنیا جانتی ہے ، بھولی ہے نہ کبھی بھول سکتی ہے اس حقیقت کو کہ جس پتھر کو ردی اور نا کارہ سمجھ کر معماروں نے پھینک دیا آخر وہی خدا کا مقبول اور کونے کا پتھر بنا۔پس مقام خوف ہے جس کی وجہ سے میں اس ترتیب کے ذکر کو چھوڑتا اور خدا کے سپر د کرتا ہوں کیونکہ تقدم تا خر حقیقی وہی ہے جس پر خدا کی مہر تصدیق ثبت ہو۔جس کے ہاتھ میں مدارج ومراتب کا فیصلہ ہے اور عمل عامل کی حقیقت ونیت سے واقف و آگاہ ہے۔کسی نعمت کے ملنے اور خدمت کی توفیق رفیق ہونے کی سعادت پا کر خدا کے حضور جھکنا اور سجدات شکر بجالانا چاہئے۔کیونکہ مواقع میسر آنا اور کسی خدمت کی توفیق کا ملنا بھی سراسر فضل واحسان ہوتا ہے قُل لَّا تَمُوا عَلَى إِسْلَامَكُمْ بَلِ اللهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَذَيكُمْ لِلْإِيْمَانِ - اس پہرہ کا انتظام ونگرانی حضور پر نور نے مجھ نا کارہ غلام کے ذمہ لگائی جس کا مقصد و مطلب میں اپنی طبیعت کی افتاد اور عقل ناقص کی وجہ سے یہ سمجھا کہ گویا یہ سارا کام تنہا مجھی کو کرنا ہو گا اگر چہ بعض احباب نے پورے اخلاص شوق اور محبت و عقیدت سے اس کام میں میرا ہاتھ بٹایا اور مدتوں میرے ساتھ مل کر اس خدمت کو بجالاتے رہے اور پھر ہم سب نے مل کر کیا۔جو کچھ کہ ہم لوگ کر سکے۔غرض اس دن سے ہمارا یہ پہرہ کا کام ایک نظام اور باقاعدگی کے نیچے آکر خوش اسلوبی سے چلنے لگا۔اس پہرہ کی ابتدائی وجہ کے بیان میں جس واقعہ کا ذکر میں نے کیا ہے اس کی حقیقت کیا تھی ، یہ امر چند روز بعد کھلا۔جب کہ ایک شام کے دربار کے موقعہ پر ایک نامعقول اتو بچے یعنی چغد نے جسے پنجابی میں چڑیل کے نام سے یاد کیا جاتا ہے حضرت مولانا مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم پر حملہ کر کے جھپٹ ماری اور صاحب ممدوح کی کلاہ نیچے مرزا نظام الدین صاحب کے مکان موجودہ دفتر نظارت بیت المال کی چھت پر گرا دی۔( یہ دفتر مسجد مبارک سے ملحق جانب مغرب ہے اور بوقت طبع ثانی محاسب ہے۔مؤلف ) مرزا نظام الدین صاحب کے دیوان خانے کے بڑے دروازہ کے باہر ایک بڑ کا پیٹر اور چھوٹے صحن کے انتہائی پچھلی طرف شمال مغربی کو نہ میں ایک بول کا درخت ہوا کرتا تھا۔مرزا نظام الدین صاحب کے مکانات کے بعض سوراخوں میں دن بھر چھپے رہنے کے بعد اتو بچے ان درختوں کے گویا مالک ومنظم ہوا کرتے تھے اور ان کے شکار کے لئے یہ درخت مورچہ و کمین گاہ کا کام دیا کرتے تھے۔اس واقعہ اور اس کی کیفیت واثر نے بزرگوں کے ذہن و خیال کا انتقال پہلے واقعہ کی اصلیت و حقیقت کی طرف پھیر دیا۔جس کو