اصحاب احمد (جلد 9) — Page 186
IAY وہ مجھ سے کوئی بدلہ لینے کی بجائے پادریوں سے بلکہ میرے معصوم آقا پر وار کرتے رہے۔گناہ گار تھا ان کا تو میں ، نہ کہ میرے آقا۔میرے آقا کب مجھے لینے گئے تھے؟ مجھے لایا تھا تو حضور کے قدموں میں، میرا خدا، نہ کوئی اور۔پس لڑائی ان کی بنتی تھی تو مجھ سے یا پھر خدا سے۔مگر دنیا یا در کھلے اور دنیا والے بھی کان کھول کر سن رکھیں کہ فتح دنیا میں ہمیشہ صداقت و راستی اور نیکی و پاکبازی ہی کی ہوتی آئی ہے اور اسی طرح ہمیشہ ہمیش ہوتا چلا جائے گا۔جھوٹ کا بت اور بطالت کا مجسمہ بھی حق وصداقت کے مقابل میں قائم رہا نہ رہ سکے گا۔لوائے فتح و ظفر ہمت، صداقت و راستی کے خدمت گاروں کے سر رہا ہے۔جھوٹ اور باطل کے پرستار کیا اور خدمت گذار کیا، ہمیشہ ہی ذلیل و خوار اور نگونسار ہوئے اور ہونگے کیونکہ قانون خدا ازل سے یہی مقدر ہو چکا ہے کہ كَتَبَ اللهُ لَا غُلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِی اور خدا سے بڑھ کر اور کون اصدق اور کس کا قول اقولی ہو سکتا ہے؟ چنانچہ اس فرمان خداوندی کی تائید و تصدیق کی بالکل ایک تازہ مثال زندہ کرامات اور چلتی پھرتی تصویر جو واقعہ مندرجہ صدر میں صاف اور سامنے کھڑی نظر آ رہی ہے، خود مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا وجود ہے۔جس نے اپنے علم تیرہ، زہد خشک اور جاہ زوال پذیر کے گھمنڈ پر تعلی کی اور بڑا بول بول کر کہا کہ میں نے ہی اٹھایا اور اب میں ہی گراؤں گا۔ہیں ۷- ایک بھینسے کو مار بھگانا ایک دفعہ حضرت اقدس بٹالہ تشریف لے جارہے تھے۔رتھ میں آپ کے عزیز مرزا احسن بیگ صاحب مرحوم بھی ساتھ تھے۔راستہ میں موضع دوانی وال کے تکیہ کے پاس حضور پیشاپ کے لئے ٹھہر گئے۔حضور ابھی فارغ نہیں ہوئے تھے کہ ایک بھینسے نے جو بہت جوش میں تھا ، حضور پر حملہ کرنا چاہا تو میں نے سونٹے سے مار کر اسے بھگا دیا۔تقسیم ملک کے بعد حضرت مرزا احسن بیگ صاحب سے حضرت بھائی جی کی خط و کتابت رہتی تھی۔مجھے بخوبی یاد ہے کہ مرزا صاحب کا نوآمدہ ایک خط بھائی جی نے خاکسار مؤلف کو دکھایا تھا جس میں بھینسے کو بھگانے کے اپنے چشم دید واقعہ کا ذکر کیا تھا۔اس مضمون کا عنوان ”ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک کے مقدمے کے چشمدید حالات اور خدا کی قدرت نمائی کے واقعات اور ” بٹالہ کی یاد گاریں“ کے عنوان کے تحت مولوی محمد حسین بٹالوی کی تذلیل کا واقعہ بہت مختصر درج ہو چکا ہے۔