اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 187 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 187

۱۸۷ - تشحیذ الاذھان انجمن کا قیام اور رسالہ کا اجراء انجمن تفخیذ الاذھان کا قیام کیسے اور کن حالات میں ہوا حضرت بھائی جی عبدالرحمن صاحب قادیانی بیان کرتے ہیں کہ 1- انجمن ترقی اسلام سادھ سنگست مجلس انصار الله ومقدام الاحمد یا خدام اسی اور نیشنل لیگ کور وغیرہ تمام مجالس و تنظیمات کی ایک ہی غرض و غایت تھی کہ نوجوان احمدی طبقہ کو حکیمانہ طریق سے پرا گندگی وغیرہ سے بچا کر نیک کاموں پر لگا دیا جائے۔۔-- انجمن تشحیذ الاذھان کا پہلا اور ابتدائی نام انجمن ہمدردان اسلام تھا۔جو بالکل ابتدائی ایام اور پرانے زمانے کی یادگار ہے۔جب کہ سیدنا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب فضل عمر بمشکل آٹھ نو برس کے تھے۔آپ کے دینی شغف اور روحانی ارتقاء کی یہ پہلی سیڑھی ہے۔جو حقیقتہ آپ ہی کی تحریک ، خواہش اور آرزو پر قائم ہوئی تھی۔کھیل کود اور بچپن کے دوسرے اشغال میں انہماک کے باوجود آپ کے دل میں خدمت اسلام کا ایسا جوش اور جذ بہ نظر آیا کرتا تھا جس کی نظیر بڑے بوڑھوں میں بھی شاذ ہی ہوتی۔آپ کی ہر ادا میں اس کا جلوہ اور ہر حرکت میں اس کا رنگ غالب و نمایاں ہے۔مجھے آپ کی کھیلوں کے دیکھنے اور مشاغل کو جانچنے کا اکثر موقعہ ملتا تھا۔گھنٹوں آپ مطب میں تشریف لا کر ہم میں بیٹھا کرتے کبھی ٹیمیں بنا کرتیں اور کھیلوں کی تجاویز ہوا کرتیں۔کبھی فوجیں بنا کر مصنوعی جنگوں کا انتظام ہوتا۔کبھی ڈاکو اور چوروں کا تعاقب ہوتا۔ان کی گرفتاری کے سامان ہوتے اور مقدمات سن کر فیصلے کئے جاتے۔سزائیں دی جاتیں اور کار ہائے نمایاں کرنے والوں کو انعام واکرام ملتے۔تو کبھی بحث ومباحثات اور علمی مقابلوں کا رنگ جما کرتا۔گرما گرم بحث ہوتی۔حجز مقرر ہوتے اور فاتح ومفتوح کا فیصلہ ہوتا۔الغرض ایسے ہی مشاغل اور مصروفیتوں کے نتائج میں سے ایک انجمن ہمدردان اسلام کا قیام بھی ہے جو آپ کی خواہش، مرضی اور منشاء کے ماتحت قائم کی گئی۔اول اول اس کے اجلاس پرانے اور قدیم مہمان خانہ میں ہوا کرتے اور اس وقت زیادہ سے زیادہ چھ سات ممبر تھے۔اور یہ زمانہ ۱۸۹۷ء کا تھا۔ایک منظور کردہ تجویز کے مطابق سید نا حکیم الامت حضرت مولانا نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ اس انجمن کی سر پرستی قبول