اصحاب احمد (جلد 9) — Page 163
۱۶۳ تصدیق حضرت ڈاکٹر عطر دین صاحب نے بھی فرمائی۔جو خوش قسمتی سے ۱۹۰۸ء میں بھی اس جگہ تھے۔اور بٹالہ دیکھنے والے اس حالیہ قافلہ میں بھی شامل تھے۔حضرت ڈاکٹر صاحب موصوف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ میں سے ہیں۔حضرت ام المومنین نور اللہ مرقدھا رتھ میں تشریف لائیں۔رتھ کے ساتھ حضرت بھائی جی تشریف لائے۔رتھ ساڑھے نو بجے صبح قادیان پہنچا۔سرائے مائی اچھراں دیوی یہ سرائے ریلوے روڈ بٹالہ پر واقع ہے۔اور رائل فونڈری بٹالہ ( کارخانہ ٹو کہ وغیرہ) کے قریب بازار کے مشرقی حصہ میں ہے۔اس سرائے کے دروازے پر تحریر ہے کہ اس کی بنیا د ۱۵ اگست ۱۸۹۳ء کو رکھی گئی تھی۔سرائے کا دروازہ مغرب کی طرف سڑک کی طرف کھلتا ہے دروازہ کے اندر داخل ہوتے ہی سیٹرھیاں دائیں جانب سے اوپر کو چڑھتی ہیں۔ایک کمرہ کے سامنے جا کر ختم ہو جاتی ہیں جو دوسری منزل پر ہے وہی وہ کمرہ ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آخری سفرا پریل ۱۹۰۸ء میں لاہور جاتے ہوئے قیام فرمایا تھا۔کمرہ تا حال وہی ہے اس میں کوئی ردو بدل نہیں کیا گیا۔اس کمرہ کی لمبائی 4-11 اور چوڑائی ہے۔اا ہے۔اس سفر میں کل افراد حضور سمیت دس تھے۔چھ افراد خاندان اور چار خدام۔یہیں سے حضرت ام المومنین کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام علی وال بھی لے گئے تھے۔( از مولف۔حضور اور حضرت اماں جان اور پانچ اولاد گویا کل افراد سات ہوئے چھ افراد خاندان کہنے میں سہو ہوا ہے۔) -۴- ذیل گھر بٹالہ اس کی نچلی منزل تا حال حسب سابق ہے۔اوپر کی منزل میں نئے کمرے بن گئے ہیں۔حضرت بھائی جی نے بتایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس عمارت میں بھی قیام فرمایا کرتے تھے۔لیکن اس جگہ قیام فرمانا ۱۸۹۵ء سے قبل کا ہے۔حضرت بھائی جی کی آمد ۱۸۹۵ء کے بعد بھی رتھ اسی مکان میں ٹھہرا کرتی تھی۔نیز بھائی جی نے بتایا کہ محمد اکبر صاحب ٹھیکیدار کا نال ذیل گھر کے جنوبی جانب تھا۔محمد بخش صاحب ( جنہوں نے مارٹن والے مقدمہ میں مولوی محمد حسین صاحب کے نیچے سے اپنی چادر کھینچی تھی) محمد اکبر صاحب