اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 137 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 137

۱۳۷ انہوں نے بیان کیا کہ میں موجودہ میاں صاحب ( حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ ) کا ہم جماعت ہوں عمر میں ان سے دو سال کے قریب بڑا ہوں۔سات آٹھ سال کی عمر میں ہم کئی بچے آپ کے گھر بقیہ حاشیہ: - عزم و استقلال سے بسر فرمایا۔بلکہ اپنے خدام اور غلاموں کو بھی ہمیشہ تحمل و بردباری اور انکساری و خاکساری کے ساتھ پوری شکر گزاری اور اعلیٰ اخلاق دکھانے کی نصیحت فرمایا کرتے۔آخر ( مقدمہ دیوار میں ) خدا اور خدا کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی فتح ہوئی اور دیوار گرانے کا فیصلہ اور ڈگری مع خرچہ ہوگئی۔مگر خلق مسیحائی دیکھئے کہ مدعیوں کو خرچہ کی ادائیگی کے قابل نہ پا کر لطف فرمایا اور کرم فرماتے ہوئے معاف فرما دیا۔غریب احمدیوں کے گھروں پر حملہ کر کے چڑھ آنے والے دشمن جب قانونی شکنجہ میں جکڑے گئے۔تکبر وخودسری کا نشہ اترا تو ہوش آیا۔نادم وشرمندہ ہوئے اور گلے میں رہی ، منہ میں گھانس لے کر دربار نبوۃ میں عفو و درگزر کے لئے حاضر ہوئے۔حضور نے رحم فرمایا اور لا تشریب کا نقشہ پھر دنیا کو دکھایا۔دد بعض معاند جو ڈھاب سے مٹی لینے کے جرم میں اکثر احمد یوں کی ٹوکری کہیاں چھین لے جایا کرتے۔کھلے کھیتوں میں رفع حاجت کرنے والوں کو غلاظت اٹھانے پر مجبور کیا کرتے تھے۔خدا کی طاعونی گرفت کا شکار ہوئے تو ان کو سمجھ آئی کہ یہ عذاب الہی ہمارے اعمال بد کا نتیجہ ہے۔تو خدا کے گھر کی پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔چنانچہ لا بھانا می براہمن جو شرارت کی جڑھ اور شریروں کا ایک سرغنہ تھا۔طاعون میں مبتلا ہونے کے بعد مسجد اقصیٰ کے دروازہ پر پہنچا۔مسجد کی سیڑھیوں پر سجدہ کر کے پکارنے لگا: ما تا کر پا کر، میں بھولا۔پھر کبھی تیرے مولویوں کو دکھ نہیں دوں گا“ مگر خدا نے آلن وَقَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ فرماتے ہوئے اسے مہلت نہ دی اور اٹھا ہی لیا۔وہ اخبار شجھ چنتک اور اس کا عملہ جس نے خدا کی مقدس و محبوب ہستیوں کی توہین و تذلیل اور گالی گلوچ کی نجاست بکھیر نا اپنا فرض مقرر کر لیا تھا۔خدا کو پسند نہ آیا۔اس نے حضرت اقدس کے دل میں درد پیدا کیا جس کے نتیجہ میں حضور نے قادیان کے آریہ اور ہم کے نام سے ایک کتاب لکھی۔خدا نے اس کے محرکوں کو جس رنگ میں اٹھا کر جوابدہی کے لئے اپنے حضور بلایا وہ واقعات نہایت ہی عبرتناک ہیں۔وہ بد زبان میگھو جس کا گھر مسجد اقصیٰ کے متصل اور چھت صحن کے برابر تھی۔کوئی نو وارد مہمان بھولے سے لاعلمی میں اسے صحن مسجد کا حصہ سمجھ کر کبھی چھت پر چلا جاتا