اصحاب احمد (جلد 9)

by Other Authors

Page 138 of 485

اصحاب احمد (جلد 9) — Page 138

۱۳۸ دار مسیح) میں کھیل کود کے لئے آجاتے تھے اور (حضرت) میاں صاحب کو ہم ٹوپ پہنا کر ایک کرسی پر بٹھلا دیتے اور ہم دوسرے سارے ان کی سینا (فوج) بن جاتے۔آپ کی والدہ صاحبہ نے کھچڑی بنا کر رکھی ہوتی تھی یعنی بادام اور اخروٹ کے مغز ملا کر رکھے ہوتے تھے وہ ہم سب بچوں کو یہ کھچڑی کھانے کے لئے دیتیں۔وہ بہت اعلیٰ اخلاق کی مالک تھیں اور بڑے مرزا صاحب (حضرت مسیح موعود ) بھی ہمیں اپنے بیٹوں جیسا عزیز سمجھتے تھے۔اور فرماتے تھے کہ یہ ہماری بہن کے بیٹے ہیں۔ان کی والدہ قادیان کی ہیں اس لئے ہماری بہن ہیں۔” بڑے مرزا صاحب (حضرت مسیح موعود ) ہمہ صفات متصف تھے۔آپ میں سراسر خوبیاں ہی خوبیاں تھیں۔آپ جب باہر نکلتے تو غیر از جماعت لوگ بھی آپ کی تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے۔جو کوئی آپ سے بد معاملگی سے پیش آتا آپ اس کی بدسلوکی کو نظر انداز کرتے۔آپ کے چچا زاد بھائی مرز ا نظام الدین صاحب ہمیشہ آپ کی مخالفت پر کمر بستہ رہے لیکن آپ ان سے ہمیشہ احسان سے ہی پیش آتے تھے۔جب مرزا نظام الدین صاحب نے مسجد مبارک کا راستہ، دیوار تعمیر کر کے بند کر دیا۔اور نمازیوں کو دور سے ہماری گلی میں سے چکر کاٹ کر مسجد تک پہنچنا پڑتا تھا۔(حضرت) مرزا صاحب چاہتے تو یہ بات ان کے لئے چنداں مشکل نہ تھی کہ اس دیوار کو گرا دیتے۔یا اسے بننے ہی نہ دیتے لیکن آپ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے عدالت کی طرف رجوع کر کے چارہ جوئی کرنے کے طریق کو اختیار کیا۔اس زمانہ کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے سردار صاحب نے خاکسار مؤلف کو بتایا کہ (حضرت) مرزا صاحب کے ساتھیوں کی کہیاں ٹوکریاں لا بھا نا می برہمن چھین لے جاتا تھا۔لا بھا کی کیا جرات تھی کہ وہ یہ کام کر سکتا۔وہ مرزا نظام الدین صاحب کا آلہ کا رتھا اور یہ ساری شرارتیں ان کی شہ پر ہی کرتا تھا۔بقیہ حاشیہ: - تو وہ میگھو گھنٹوں نہ صرف اس شخص کو کوستارہتا بلکہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام اور حضور کے سارے خاندان کو نہایت ہی نازیبا الفاظ میں گندی گالیاں اور بددعائیں دیا کرتا تھا۔چنانچہ ایک مرتبہ جلسہ سالانہ کے موقع پر جبکہ سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ، دور و نزدیک کے کئی سو صحاب کے ساتھ مسجد اقصیٰ میں موجود تھے۔اس نے اپنی گندی فطرت وار بدزبانی کا ایسا مظاہرہ کیا کہ الامان الحفیظ۔مگر انجام کیا ہوا اور پھل کیا پایا ؟ خدا کی پناہ!